Thursday, 4 May 2017

مشال قتل ہوں گے

0 comments
’’کیا؟ کیا؟ کیا کہا۔۔۔؟‘‘سیلانی کے دوست نے چونک کراسے گھورا، اسکے ہاتھ میں تھامے ہوئے چائے کے کپ کا سفر راستے ہی میں رک گیا تھااسکی نظریں سیلانی پر جمی ہوئی تھیں بلکہ سیلانی یہ کہے کہ وہ اسے گھور رہا تھا تو غلط نہ ہوگا
’’میں نے یہ کہا ہے کہ مشعال قتل ہوں گے‘‘
’’نان سینس۔۔۔افسوس ہے تمہاری سوچ پر، تم نے پڑھ لکھ کر گنوایا حیرت ہوئی تمہاری سوچ جان کر۔۔۔۔کچھ لوگوں کاتعلیم کچھ نہیں بگاڑتی اور ہمارے یہاں کچھ لوگ بڑی تعداد میں ہیں، تم بھی ان ہی میں سے ہو‘‘
سیلانی نے کرسی کی پشت سے ٹیک لگائی اور مسکراتے ہوئے اسے دیکھنے لگابلکہ تپانے لگا
’’خطرے کی بات ہے تم جیسے لوگوں کو عوام سے دور رکھنا چاہئے، تم آگ پر پٹرول چھڑکنے والوں میں سے ہو۔۔۔’’سیلانی نے اس کی بات کاٹی اور اسے مزید چڑاتے ہوئے کہا’’اور میں تورہتا ہی عوام کے بیچ میں ہوں‘‘
’’اسے بدقسمتی کے علاوہ اور کیا کہیں۔۔۔تم نے مشعال کی تصویریں دیکھی ہیں ؟ کیا خوبصورت اور بھرپور نوجوان تھا؟ کیا اسے اس طرح مرنا چاہئے تھا؟۔ ۔۔اس بیچارے کا قصور کیا تھا؟ صرف یہ کہ وہ ایک پروگریسو نوجوان تھا‘‘
’’پروگریسو نہیں کمیونسٹ‘‘، سیلانی نے تصحیح کی
’’تو اس پر اسے اس وحشیانہ انداز میں قتل کر دینا چاہئے تھا؟کیا جاہلوں جیسی بات کر رہے ہو یار!‘‘
’’میں نے کب کہا کہ کمرے میں لینن کی تصویر لگانے اور سرخ فوجی ٹوپی پہننے پر اسے قتل کر دیا جائے ‘‘
’’جھوٹ، سفید جھوٹ ابھی، ابھی،ابھی تم نے کہا‘‘
’’میں نے یہ کہا ہے کہ مشعال قتل ہوں گے ‘‘
’’کیوں قتل ہوں گے ؟‘‘اس نے سیلانی کی نقل اتارتے ہوئے چبا چبا کر کہا۔
جواب میں سیلانی نے اسی کی میز پررکھے ہوااخبار اٹھایا پچھلا صفحہ اس کے سامنے پھیلا دیا اور ایک خبر پر انگلی رکھ دی
’’کیا ہے یہ؟‘‘
’’یہ خبر نظر سے گزری ہے،نہیں پڑھی تو پڑھ لو بات سمجھ میں آجائے گی‘‘
وہ باآواز بلند پڑھنے لگا’’سیالکوٹ میں تین عورتوں نے توہین رسالت کے ملزم کو گھر میں گھس کر فائرنگ کرکے مار دیا۔۔۔پسرور میں تین نقاب پوش عورتوں نے توہین رسالت کے ملزم کو گھر میں گھس کر فائرنگ کرکے مار دیا۔۔۔۔یہی تو یہی تو جہالت ہے، مفتی تقی عثمانی کہہ چکے ہیں کہ کسی گستاخ کو قتل کرنے کی اجازت عوام یا کسی فرد کو نہیں یہ کام صرف ریاست کا ہے۔ ‘‘
’’آپ کے ایک ایک لفظ سے متفق ہوں کہ یہ کام ریاست کا ہے لیکن کیا ریاست یہ کام کر رہی ہے؟جب سے توہین رسالت ﷺ کا قانون بنا ہے کوئی ایک مجرم پھانسی چڑھا؟ریاست نے کسی ایک کی گردن لمبی کی ؟ کسی ایک کی زبان کھینچی؟‘‘
’’تو کیا تم یہ کہناچاہتے ہو کہ لوگوں کو آزادی دے دی جائے وہ خود ہی الزام لگائیں، خود ہی عدالت لگائیں اور کوخود ہی فیصلہ کر کے کسی کی بھی جان لے لیں،چاہے وہ بے قصور ہو۔کسی نے اس پر بہتان لگا کر اپنی دشمنی نکالی ہو۔‘‘
’’میں بالکل بھی ایسا نہیں کہہ رہا، میں یہ کہہ رہا ہوں کہ جب عدالتوں سے فیصلے نہیں آئیں گے تو لوگ خود عدالتیں لگائیں گے۔ توہین رسالت کا معاملہ اتنا ہلکا نہیں کہ بندہ صبر کرکے بیٹھ جائےکہ قانون کی پاسداری ہو۔ لوگوں کو پتہ ہو کہ قانون کی پکڑ ہوگی تو وہ اپنے ہاتھ کسی گستاخ کے گندے خون سے کیوں گندے کریں۔۔۔۔؟‘‘اس نے ہاتھ اٹھا کر کچھ کہنا چاہالیکن سیلانی نے اسے موقع نہیں دیااور اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا’’ایک منٹ ایک منٹ۔۔۔۔موٹر وے پر گئے ہو ناں وہاں سیٹ بیلٹ کیوں باندھ لیتے ہو؟‘‘
’’سیدھی سی بات ہے چالان ہوجاتا ہے‘‘
’’اور یہاں کراچی میں سیٹ بیلٹ اس لئے نہیں باندھتے کہ چالان نہیں ہوتا،موٹر وے پولیس ہم ہی میں سے ہے نا؟ اس میں بھرتی کے لئے ہم جبریل علیہ السلام سے فرشتے تو نہیں مانگتے؟ پھر وہاں قانون کی بات کیوں مانتے ہیں اور جی ٹی روڈ پر کیوں نہیں مانتے ؟یہاں بھی اسی اصول کو لاگو کر لو اور مشعالوں کو بچالو ورنہ کسی بھی وجہ سے کوئی بھی ان پر الزام لگا کر قبر کے اندھیروں میں اتار سکتا ہے اور سنو۔۔۔ایک منٹ، ایک منٹ میری بات پوری ہونے دو۔۔۔یہ کوئی راکٹ سائنس نہیں،توہین رسالت ﷺ اور اسی قسم کے الزامات کی تفتیش کے لئے ایک ریپڈ فورس بنائی جا سکتی ہے اور اسی طرح مخصوص عدالتیں بھی قائم کی جا سکتی ہیں۔ جب ہم فوجی عدالتیں قائم کر سکتے ہیں تویہ عدالتیں بھی بن سکتی ہیں،یہ معاملہ ہماری جان و مال سے بڑھ کرہے۔ کسی بھی تھانے میں مقدمہ درج کرکے تفتیش ریپڈ فورس کے حوالے کردی جائے وہ تفتیش تحقیق کرکے ان عدالتوں میں ملزم پیش کر ے۔ فیصلہ وہاں ہو کہ گستاخی کی گئی یا نہیں؟ملزم کو باعزت چھوڑ دیا جائے یا لٹکا دیا جائے۔ یہ عدالتیں تیزی سے کام کریں اپنا اعتبار قائم کرکے لوگوں کے ہاتھ روک دیں ایسا نہ ہوا تو یاد رکھو اسی طرح فیصلے ہوتے رہیں گے یہ عشق عقیدت کے معاملے ہیں، عقل ان کا احاطہ نہیں کر سکتی۔اب آپ فرمائیں‘‘۔
’’یہ پاکستان ہے یورپ اور امریکہ نہیں بھائی صاحب !آپکی تجویز پنج سالہ نہیں پچیس سالہ منصوبہ ہے، سوال یہ ہے کہ تب تک جو لوگ توہین رسالت کے الزام میں مارے جاتے رہیں گے ان کاذمہ دار کون ہوگا؟‘‘

’’یہی ریاست ہوگی، اسی کی ذمہ داری ہے کہ شاتمین کے ناپاک وجود سے زمین کو ہلکا کرے اور جھوٹے الزام لگانے والے کو بھی شریعت کے مطابق سخت ترین سزادے۔ جب یہاں پانامہ لیکس میں نام آنے پرایک شخص کی صداقت امانت جانچنے پرکھنے کے لئے عدالتوں کے پانچ جج سرجوڑ کر بیٹھ سکتے ہیں تو نبی اکرمﷺ کی حرمت وقار کا معاملہ توکچھ اورہی ہے۔ روشن خیال بننے والے دوست لاکھ بھاشن دے لیں مسلمان کم از کم اس پر کمپرومائز نہیں کر سکتے، انگریز سرکار نے غازی علم دین اورہماری سرکار نے ممتاز قادری کو پھانسی دی تھی، اس سزا سے کتنوں نے ’عبرت‘‘لی؟اخبار سامنے ہے پسرور میں گستاخی کا الزام 2004ء میں لگا تھا۔ ملزم بھاگ کر ایران اور ڈنمارک نکل گیا تھا۔ تیرہ برس بعد واپس آیا تو کیا ہوا؟تین عورتوں نے گھر میں گھس کرشناخت کرکے مارااور مار کر بھاگی نہیں، پولیس کا انتظار کرتی رہیں کہ ہاں ہم نے اسے قتل کیا ہے،پھر کہوں گا عدالتیں لگالو،مشعال بچالو۔۔۔‘‘یہ کہتے ہوئے سیلانی نے گھڑی پر نظر ڈال کر میز پر رکھا اپنا بیگ اٹھایا اورجاتے ہوئے لب بھینچ کرکرسی کی پشت سے پشت ملائے اپنے دوست کسی گہری سوچ میں ڈوبادیکھتا رہا دیکھتا رہا اور دیکھتا چلا گیا !

اسلام زوال کا کیوں شکارہے؟

0 comments
میں نے ایک دانشور سے پوچھا:"خواجہ صاحب پورا عالم اسلام زوال کاکیوں شکار ہے؟ہم دنیا کے ہر کونے، ہر خطے میں مار کیوں کھا رہے ہیں‘‘
خواجہ صاحب مسکرائےاور ذرا سے توقف سے بولے:میں خاموشی سے ان کی طرف دیکھتا رہا.انہوں نے فرمایا فرعون کے بے شمار معانی ہیں..
ان معنوں میں ایک مطلب بڑے گھر والا بھی ہوتا ہے..فرعون نے خدائی کا دعویٰ کیا تھا..اس کی اس جسارت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اسے ناپسند فرمایا.جب اللہ تعالیٰ کسی کو ناپسند فرماتے ہیں تو وہ اس شخص کی ہر ادا ، ہر عادت کو خرابی بنا دیتے ہیں..اور آنے والے زمانوں میں جو بھی شخص اللہ کے اس مشرک کی پیروی کرتا ہے...جو بھی اس کی عادات اپناتا ہےاللہ اسے بھی اس زوال ، اس انجام کا شکار بنا دیتا ہے...
میں خاموشی سے ان کی طرف دیکھتا رہا..
انہوں نے فرمایا...فراعین مصر کو بلند و بالا اور وسیع و عریض عمارتیں بنانے کا شوق تھا..ان کا خیال تھا محلات، دربار، قلعے اور دروازے طاقت اور اختیار کی علامت ہوتے ہیں..اگر انہوں نے خود کو خدا ثابت کرنا ہے تو انہیں پہاڑوں سے بلند عمارتیں بنانی چاہیں...چنانچہ وہ اس خبط میں مبتلا ہو گئے...وہ ذرا دیر کیلئے رکےمسکرا کر میری طرف دیکھااور اس کے بعد بولے یہاں تک کہ انہوں نے اپنے لئے دنیا کی سب سے بڑی قبریں تیار کیں.. آپ اہرام مصر دیکھیں..یہ کیا ہیں یہ وسیع و عریض قبریں ہیں. سائنس آج تک حیران ہے یہ لوگ اتنے بڑے بڑے پتھر کہاں سے لائے،انہوں نے یہ پتھر ایک دوسرے کے ساتھ کیسے جوڑےاوران لوگوں نے کرینوں کے بغیر یہ پتھر ایک دوسرے کے ا وپر کیسے رکھے،
یہ مقبرے دراصل ان کی سوچ اور فکر کے آئینہ دار ہیں ، یہ ثابت کرتے ہیں فرعون حقیقتاً بڑے گھروں والے لوگ تھےاور وہ اپنے بڑے بڑے گھروں ، قلعوں اور قبروں سے خود کو خدا ثابت کرنا چاہتے تھے‘‘۔
خواجہ صاحب مکمل طور پر خاموش ہو گئے۔
میں نے عرض کیا:لیکن فرعون کے گھروں کا ہمارے زوال کے ساتھ کیا تعلق‘‘وہ مسکرائےبڑاگہر ا تعلق ہےفرعون اللہ کا دشمن تھا اوراللہ اپنے دشمن کی عادتوں کو پسند نہیں کرتاچنانچہ دنیا کے تمام بڑے گھروں والے لوگ جلد یا بدیر فرعون جیسے انجام کا شکار ہوتے ہیں-وہ ، ان کی خدائی اور ان کے بڑے بڑے گھر زوال کا شکار ہو جاتے ہیں‘‘
میں خاموشی سے سنتا رہا ،
پھر وہ بولے:"تم دنیا میں ترقی اور پستی پانے والے لوگوں ، معاشروں ، قوموں اور ملکوں کا جائزہ لوتو تمہیں چھوٹے گھروں،چھوٹے دفتروں اورچھوٹی گاڑیوں والے لوگ، ملک اورمعاشرے ترقی پاتے نظر آئیں گے.جبکہ ہر وہ ملک جس کے بادشاہ، حکمران، وزیر، مشیر ، بیوروکریٹس اور تاجر بڑے گھروں، بڑے دفتروں میں رہتے ہیں وہ ملک وہ معاشرہ زوال پذیر ہوگا‘‘
میں خاموشی سے سنتا رہا،
انہوں نے فرمایا: "پورا عالم اسلام بڑے گھروں کے خبط میں مبتلا ہے،اس وقت دنیا کا سب سے بڑا محل برونائی کے سلطان کے پاس ہے ،عرب میں سینکڑوں ہزاروں محلات ہیں اور ان محلات میں سونے اورچاندی کی دیواریں ہیں، اسلامی دنیا اس وقت قیمتی اور مہنگی گاڑیوں کی سب سے بڑی مارکیٹ ہے‘‘-وہ خاموش ہوئے،
ذرا دیر سوچااور پھر بولے:"تم پاکستان کو دیکھو،تم ایوان صدر، وزیراعظم ہاؤس، گورنر ہاؤسز، کور کمانڈر ہاؤسز، آئی جی ، ڈی آئی جی ہاؤسز، ڈی سی اوز ہاؤس اور سرکاری گیسٹ ہاؤسز کو دیکھو،
یہ سب کیا ہیں؟یہ سب بڑے گھر ہیں،پاکستان کے ایک ضلع میں18ویں گریڈ کے ایک سرکاری عہدیدار کا گھر 106کنال پر مشتمل ہے،
اسلام آباد کے وزیراعظم ہاؤس کا رقبہ قائد اعظم یونیورسٹی کے مجموعی رقبے سے چار گنا ہے،
لاہور کا گورنر ہاؤس جو پنجاب یونیورسٹی سے بڑا ہے،اور ایوان صدر کا سالانہ خرچ پاکستان کی تمام یونیورسٹیوں کے مجموعی بجٹ سے زیادہ ہے"
میں خاموشی سے سنتا رہا.
پھر بولے:"تم لوگ اپنے حکمرانوں کے دفتر دیکھو،ان کی شان و شوکت دیکھو،ان کے اخراجات اور عملہ دیکھو،کیا یہ سب فرعونیت نہیں؟کیا اس سارے تام جھام کے بعد بھی اللہ تعالیٰ ہم سے راضی رہے گا"؟؟جبکہ اس کے برعکس تم دنیا کی ترقی یافتہ قوموں کا لائف سٹائل دیکھو ،
·        بل گیٹس دنیا کا امیر ترین شخص ہے،دنیا میں صرف 18 ممالک ایسے ہیں جو دولت میں بل گیٹس سے امیر ہیں،باقی 192 ممالک اس سے کہیں غریب ہیں،لیکن یہ شخص اپنی گاڑی خود ڈرائیو کرتا ہے، وہ اپنے برتن خود دھوتا ہے ،وہ سال میں ایک دو مرتبہ ٹائی لگاتا ہے،اور اس کا دفتر مائیکروسافٹ کے کلرکوں سے بڑا نہیں.
·        وارن بفٹ دنیا کا دوسرا امیر ترین شخص ہے.اس کے پاس 50 برس پرانا اورچھوٹا گھر ہے،اس کے پاس 1980ء کی گاڑی ہے،اور وہ روز کوکا کولا کے ڈبے سٹورز پر سپلائی کرتا ہے.
·        برطانیہ کے وزیراعظم کے پاس دو بیڈروم کا گھر ہے.
·        جرمنی کی چانسلر کوسرکاری طور پر ایک بیڈ روم اور ایک چھوٹا سا ڈرائنگ روم ملا ہے.
·        اسرائیل کا وزیراعظم دنیا کے سب سے چھوٹے گھر میں رہ رہا ہے،کبھی کبھار اس کی بجلی تک کٹ جاتی ہے.
·        بل کلنٹن کو لیونسکی کیس کے دوران کورٹ فیس ادا کرنے کے لئے دوستوں سے ادھار لینا پڑا تھا.
·        وائیٹ ہاؤس کے صرف دو کمرے صدر کے استعمال میں ہیں،اوول آفس میں صرف چند کرسیوں کی گنجائش ہے.
·        جاپان کے وزیراعظم کوشام چاربجے کے بعدسرکاری گاڑی کی سہولت حاصل نہیں.

چنانچہ
تم دیکھ لوچھوٹے گھروں والے یہ لوگ ہم جیسے بڑے گھروں والے لوگوں پر حکمرانی کررہے ہیں....
یہ ممالک آگے بڑھ رہے ہیں اور ہم دن رات پیچھے جا رہے ہیں"
یہ سب کچھ بول کروہ خاموش ہو گئے۔
میں نے عرض کیا:
"
گویا آپ کا فرمانا ہے ہم ترقی نہیں کر سکتے"انہوں نے غور سے میری طرف دیکھااور مسکرا کر بولے:"ہاں....
*
وہ یہ قاعدہ ہمارے لئے کیوں تبدیل کرے گا"*
موسیٰؑ کے خاک ساروں میں شامل نہیں ہوتے.جب تک ہم بڑے گھروں سے نقل مکانی کر کے چھوٹے گھروں میں نہیں آتے،
اور جب تک ہم قلعوں،ایوانوں اور محلوں سے نکل کر مکانوں،گھروں اور فلیٹوں میں شامل نہیں ہوتے،ہم اس وقت تک ترقی نہیں کریں گے،ہم اس وقت تک بڑی قوم نہیں بنیں گے"انہوں نے کچھ سوچا اور مسکرا کر بولے:

Monday, 1 May 2017

مزدور کا عالمی دن

0 comments
صبح صبح جب میں چوک سے گزرتا تو سڑک کے دونوں اطراف مزدور اپنی مزدوری کے انتظار میں رہتے۔ میں ان کو دیکھتا اور کچھ سوچے بغیر ہی یہاں سے گزر جاتا۔ لیکن کبھی کبھی جب میں 11 بجے واپس آتا اورمیرا چکر بھی چوک کی طرف لگتا تو وہاں کچھ مزدور ابھی تک موجود ہوتے۔ پھر یہ سوچتا شاید ان کو ابھی تک کوئی کام نہیں ملا، یہ سوچتے سوچتے اپنا راستہ لیتا اور چلا جاتا۔ آج جب میں کلاس میں گیا تو بچوں نے پوچھا" سر جی کل چھٹی ہے " میں نے پوچھا کیوں چھٹی ہے تو کہنے لگے "مزدور کا عالمی دن ہے" میں نے ان سے کچھ سوال کیے تو کسی بچے نے کوئی خاطر خواہ جواب نہیں دیا۔ مجھے جتنا معلوم تھا وہ میں نے ان کو بتا دیا لیکن گھر پہنچ کر سوچا اس پر کچھ لکھتے ہیں لیکن لکھنے سے پہلے کچھ تفصیلات کا پتہ کر لیں۔ جو کوشش کی اس کا نتیجہ یہ ہے۔
پسِ منظر
یوم مئی، مزدور کا عالمی دن یا لیبر ڈے، ہم کیوں مناتے ہیں۔ہوتا یہ تھا کہ مزدور کی زندگی ایک گدھے کے برابر تھی۔ ایک جانور کی طرح مزدور سے کام لیا جاتا تھا۔ دن میں 16-16 گھنٹے کام لیا جاتا۔ تنخواہ بھی کچھ خاص نہیں تھی ۔ اوورٹائم کا تصور ہی نہیں تھا۔ ڈیوٹی کے دوران اگر کوئی مزدور زخمی ہو جاتا یا مر جاتا تو اس کے تمام اخراجات خود مزدور کے ذمہ تھے فیکٹری یا مل کی طرف سے ایسا کوئی قانون نہیں تھا کہ مزدور کو زخمی ہونے کی صورت میں اس کا علاج کروایا جاتا۔ مزدور کی ملازمت کا فیصلہ مالک کی صوابدیدی پر ہوتا ۔ وہ جس کو چاہتا ملازمت پر رکھتا اور جس کو چاہتا ملازمت سے ہٹا دیتا۔ ہفتے میں سات دن کام کرنا پڑتا، چھٹی کا کوئی تصور ہی نہیں تھا۔ 
1 May
یکم مئی یا مزدور کا عالمی دن کی تاریخ
ان تمام مسائل کو حل کرنے کے لیے امریکہ اور یورپ میں مزدوروں نے مختلف تحریکیں چلائیں 1884ء میں فیڈریشن آف آرگنائزڈ ٹریڈرز اینڈ لیبریونینز نے اپنا ایک اجلاس منعقد کیا جس میں انہوں نے ایک قرارداد پیش کی۔ قرارداد میں کچھ مطالبے رکھے گے جن میں سب سے اہم مطالبہ 'مزدوروں کے اوقات کار کو 16 گھنٹوں سے کم کر کے 8 گھنٹے کیا جائے۔ مزدوروں کا کہنا تھا 8 گھنٹے کام کے لیے، 8گھنٹے آرام کے لیے اور 8 گھنٹے ہماری مرضی کے۔ یہ مطالبہ یکم مئی سے لاگو کرنے کی تجویز پیش کی گئی۔ لیکن اس مطالبہ کو تمام قانونی راستوں سے منوانے کی کوشش ناکام ہونے کی صورت میں یکم مئی کو ہی ہڑتال کا اعلان کیا گیا اور جب تک مطالبات نا مانے جائیں یہ تحریک جاری رہے گی۔ 16-16 گھنٹے کام کرنے والے مزدوروں میں 8 گھنٹے کام کا نعرہ بہت مقبول ہوا۔ اسی وجہ سے اپریل 1886 ء تک 2 لاکھ 50 ہزار سے زیادہ مزدور اس ہڑتال میں شامل ہونے کے لیے تیار ہو گے۔ اس تحریک کا آغاز امریکہ کہ شہر "شگاگو" سے ہوا۔ ہڑتال سے نپٹنے کے لیے جدید اسلحہ سے لیس پولیس کی تعداد شہر میں بڑھا دی گئی۔ یہ اسلحہ اور دیگر سامان پولیس کو مقامی سرمایہ داروں نے مہیا کیا تھا۔تاریخ کا آغاز یکم مئی سے شروع ہوگیا۔ پہلے روز ہڑتال بہت کامیاب رہی دوسرے دن یعنی 2 مئی کو بھی ہڑتال بہت کامیاب اور پُر امن رہی۔ لیکن تیسرے دن ایک فیکٹری کے اندر پولیس نے پر امن اور نہتے مزدوروں پر فائرنگ کر دی جس کی وجہ سے چار مزدور حلاک اور بہت زخمی ہو گے۔
اس واقعہ کے خلاف تحریک کے منتظمین نے اگلے ہی روز 4 مئی کو ایک بڑے اجتجاجی جلسے کا اعلان کیا۔ اگلے روز جلسہ پُر امن جاری تھا لیکن آخری مقرر کے خطاب کے دوران پولیس نے اچانک فائرنگ شروع کرکے بہت سے مزدور ہلاک اور زخمی کر دے۔ پولیس نے یہ الزام لگایا کہ مظاہرین میں سے ان پر گرینیڈ سے حملہ کیا گیا ہے جس کی وجہ سے ایک پولیس ہلاک اور کئی زخمی ہوگے ہیں۔ اس حملے کو بہانہ بناکر پولیس نے گھر گھر چھاپے مار ے اور بائیں بازو اور مزدور رہنماؤں کو گرفتار کر لیا‘ ایک جعلی مقدمے میں آ ٹھ مز دور رہنماؤں کو سزا ئے موت دے دی گئی۔
البرٹ پار سن‘ آ گسٹ سپائز ‘ایڈولف فشر اور جارج اینجل کو 11 نومبر 1887ء کو پھانسی دے دی گئی۔لوئیس لنگ نے جیل میں خود کشی کر لی اور باقی تینوں کو 1893ئمیں معافی دیکر رہا کر دیا گیا۔ مئی کی اس مزد ور تحریک نے آ نے والے دنوں میں طبقاتی جدوجہد کے متعلق شعور میں انتہائی اضافہ کیا‘ایک نوجوان لڑکی ایما گولڈ نے کہا ’’کہ مئی1886ء کے واقعات کے بعد میں محسوس کرتی ہوں کہ میرے سیاسی شعور کی پیدائش اس واقعے کے بعد ہو ئی ہے‘‘ ۔ البرٹ پا رسن کی بیوہ لوسی پارسن نے کہا’’ دنیا کے غریبوں کو چاہیے کہ اپنی نفرت کو ان طبقوں کی طرف موڑ دیں جو انکی غربت کے ذمہ دار ہیں یعنی سر ما یہ دار طبقہ‘‘۔ جب مزدوروں پر فائر نگ ہو رہی تھی تو ایک مزدور نے اپناسفید جھنڈاایک زخمی مزدور کے خون میں سرخ کرکے ہوا میں لہرا دیا ‘اسکے بعد مزدور تحریک کا جھنڈاہمیشہ سرخ رہا۔
1889 
ء میں ریمنڈ لیوین کی تجویز پر یکم مئی 1890ء کو یوم مئی کے طور پر منانے کا اعلان کیا گیا۔ اس دن کی تقریبات بہت کامیاب رہیں۔ اسکے بعد یہ دن ’’ عالمی یوم مزدور‘‘ کے طور پر منایا جانے لگا سوائے امریکہ‘ کینیڈا اورجنوبی افریقہ کے۔ جنوبی افریقہ میں غالبا ًنسل پرست حکومت کے خاتمے کے بعد یوم مئی وہاں بھی منایا جانے لگا ۔ مزدور اور دیگر استحصال زدہ طبقات کی حکومت لینن کی سربراہی میں اکتوبر انقلاب کے بعد سوویت یونین میں قائم ہوئی۔ اسکے بعد مزدور طبقے کی عالمی تحریک بڑی تیزی سے پھیلی اور چالیس پچاس سالوں میں دنیا کی تقریباً نصف آبادی پر مزدور طبقے کا انقلابی سرخ پرچم لہرانے لگا۔
لیکن!


اس کوشش کے باعث فیکٹری اور میل کے ملازمین کو تو کسی حد تک تخفظات مل گئے لیکن ایک عام مزدور جو صبح چوک پر اپنی مزدوری کا انتظار کرتا ہے۔ جو صبح مزدوری کرتا ہے اور رات کو اس کا چولہا جلتا ہے۔ کسی بھی سرکاری یا پرائیوٹ چھٹی کے ساتھ ہی اس کے گھر میں فاقے کی آمد ہوتی ہے۔ ایسے مزدوروں کی زندگی میں یکم مئی کی کیا اہمیت ہوگی؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

Saturday, 29 April 2017

123

0 comments
میں نے ایک دانشور سے پوچھا:
"خواجہ صاحب پورا عالم اسلام زوال کاکیوں شکار ہے؟

هم دنیا کے ہر کونے، ہر خطے میں مار کیوں کھا رہے ہیں‘‘
خواجہ صاحب مسکرائے
اور ذرا سے توقف سے بولے:
میں خاموشی سے ان کی طرف دیکھتا رہا.
انہوں نے فرمایا
فرعون کے بے شمار معانی ہیں..
ان معنوں میں ایک مطلب بڑے گھر والا بھی ہوتا ہے..
فرعون نے خدائی کا دعویٰ کیا تھا..
اس کی اس جسارت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اسے ناپسند فرمایا.
جب اللہ تعالیٰ کسی کو ناپسند فرماتے ہیں
تو وہ اس شخص کی ہر ادا ، ہر عادت کو خرابی بنا دیتے ہیں..
اور آنے والے زمانوں میں
جو بھی شخص اللہ کے اس مشرک کی پیروی کرتا ہے...
جو بھی اس کی عادات اپناتا ہے
اللہ اسے بھی اس زوال ، اس انجام کا شکار بنا دیتا ہے...
میں خاموشی سے ان کی طرف دیکھتا رہا..
انہوں نے فرمایا...
فراعین مصر کو بلند و بالا اور وسیع و عریض عمارتیں بنانے کا شوق تھا..
ان کا خیال تھا محلات، دربار، قلعے اور دروازے طاقت اور اختیار کی علامت ہوتے ہیں..
اگر انہوں نے خود کو خدا ثابت کرنا ہے
تو انہیں پہاڑوں سے بلند عمارتیں بنانی چاہیں...
چنانچہ وہ اس خبط میں مبتلا ہو گئے...
وہ ذرا دیر کیلئے رکے
مسکرا کر میری طرف دیکھا
اور اس کے بعد بولے
یہاں تک کہ انہوں نے اپنے لئے دنیا کی سب سے بڑی قبریں تیار کیں..
آپ اہرام مصر دیکھیں..
یہ کیا ہیں
یہ وسیع و عریض قبریں ہیں.
سائنس آج تک حیران ہے یہ لوگ اتنے بڑے بڑے پتھر کہاں سے لائے،
انہوں نے یہ پتھر ایک دوسرے کے ساتھ کیسے جوڑے
اوران لوگوں نے کرینوں کے بغیر یہ پتھر ایک دوسرے کے ا وپر کیسے رکھے،
یہ مقبرے دراصل ان کی سوچ اور فکر کے آئینہ دار ہیں ،
یہ ثابت کرتے ہیں
فرعون حقیقتاً بڑے گھروں والے لوگ تھے
اور وہ اپنے بڑے بڑے گھروں ، قلعوں اور قبروں سے خود کو خدا ثابت کرنا چاہتے تھے‘‘۔
خواجہ صاحب مکمل طور پر خاموش ہو گئے۔
میں نے عرض کیا:
لیکن فرعون کے گھروں کا ہمارے زوال کے ساتھ کیا تعلق‘‘
وہ مسکرائے
بڑاگہر ا تعلق ہے
فرعون اللہ کا دشمن تھا اوراللہ اپنے دشمن کی عادتوں کو پسند نہیں کرتا
چنانچہ دنیا کے تمام بڑے گھروں والے لوگ جلد یا بدیر فرعون جیسے انجام کا شکار ہوتے ہیں-
وہ ، ان کی خدائی اور ان کے بڑے بڑے گھر زوال کا شکار ہو جاتے ہیں‘‘
میں خاموشی سے سنتا رہا ،
پھر وہ بولے:
"تم دنیا میں ترقی اور پستی پانے والے لوگوں ، معاشروں ، قوموں اور ملکوں کا جائزہ لو

تو تمہیں چھوٹے گھروں،چھوٹے دفتروں اورچھوٹی گاڑیوں والے لوگ، ملک اورمعاشرے ترقی پاتے نظر آئیں گے.
جبکہ
ہر وہ ملک جس کے بادشاہ، حکمران، وزیر، مشیر ، بیوروکریٹس اور تاجر بڑے گھروں، بڑے دفتروں میں رہتے ہیں
وہ ملک وہ معاشرہ زوال پذیر ہوگا‘‘
میں خاموشی سے سنتا رہا،
انہوں نے فرمایا:
"پورا عالم اسلام بڑے گھروں کے خبط میں مبتلا ہے،

اس وقت دنیا کا سب سے بڑا محل برونائی کے سلطان کے پاس ہے ،
عرب میں سینکڑوں ہزاروں محلات ہیں اور ان محلات میں سونے اورچاندی کی دیواریں ہیں، اسلامی دنیا اس وقت قیمتی اور مہنگی گاڑیوں کی سب سے بڑی مارکیٹ ہے‘‘-
وہ خاموش ہوئے،
ذرا دیر سوچا
اور پھر بولے:
"تم پاکستان کو دیکھو،

تم ایوان صدر، وزیراعظم ہاؤس، گورنر ہاؤسز، کور کمانڈر ہاؤسز، آئی جی ، ڈی آئی جی ہاؤسز، ڈی سی اوز ہاؤس اور سرکاری گیسٹ ہاؤسز کو دیکھو،
یہ سب کیا ہیں؟
یہ سب بڑے گھر ہیں،
پاکستان کے ایک ضلع میں18ویں گریڈ کے ایک سرکاری عہدیدار کا گھر 106کنال پر مشتمل ہے،
اسلام آباد کے وزیراعظم ہاؤس کا رقبہ
قائد اعظم یونیورسٹی کے مجموعی رقبے سے چار گنا ہے،
لاہور کا گورنر ہاؤس
پنجاب یونیورسٹی سے بڑا ہے،
اور ایوان صدر کا سالانہ خرچ پاکستان کی تمام یونیورسٹیوں کے مجموعی بجٹ سے زیادہ ہے"
میں خاموشی سے سنتا رہا.
پھر بولے:
"تم لوگ اپنے حکمرانوں کے دفتر دیکھو،

ان کی شان و شوکت دیکھو،
ان کے اخراجات اور عملہ دیکھو،
کیا یہ سب فرعونیت نہیں؟
کیا اس سارے تام جھام کے بعد بھی
اللہ تعالیٰ ہم سے راضی رہے گا"؟؟
جبکہ اس کے برعکس
تم دنیا کی ترقی یافتہ قوموں کا لائف سٹائل دیکھو ،
بل گیٹس دنیا کا امیر ترین شخص ہے،
دنیا میں صرف 18 ممالک ایسے ہیں جو دولت میں بل گیٹس سے امیر ہیں،
باقی 192 ممالک اس سے کہیں غریب ہیں،
لیکن یہ شخص اپنی گاڑی خود ڈرائیو کرتا ہے،
وہ اپنے برتن خود دھوتا ہے ،
وہ سال میں ایک دو مرتبہ ٹائی لگاتا ہے،
اور اس کا دفتر مائیکروسافٹ کے کلرکوں سے بڑا نہیں.
وارن بفٹ دنیا کا دوسرا امیر ترین شخص ہے.
اس کے پاس 50 برس پرانا اورچھوٹا گھر ہے،
اس کے پاس 1980ء کی گاڑی ہے،
اور وہ روز کوکا کولا کے ڈبے سٹورز پر سپلائی کرتا ہے.
برطانیہ کے وزیراعظم کے پاس
دو بیڈروم کا گھر ہے.
جرمنی کی چانسلر کو
سرکاری طور پر ایک بیڈ روم اور ایک چھوٹا سا ڈرائنگ روم ملا ہے.
اسرائیل کا وزیراعظم دنیا کے سب سے چھوٹے گھر میں رہ رہا ہے،
کبھی کبھار اس کی بجلی تک کٹ جاتی ہے.
بل کلنٹن کو لیونسکی کیس کے دوران
کورٹ فیس ادا کرنے کے لئے دوستوں سے ادھار لینا پڑا تھا.
وائیٹ ہاؤس کے صرف دو کمرے صدر کے استعمال میں ہیں،
اوول آفس میں صرف چند کرسیوں کی گنجائش ہے.
جاپان کے وزیراعظم کو
شام چاربجے کے بعد
سرکاری گاڑی کی سہولت حاصل نہیں.
چنانچہ
تم دیکھ لو
چھوٹے گھروں والے یہ لوگ
ہم جیسے بڑے گھروں والے لوگوں پر حکمرانی کررہے ہیں....
یہ ممالک آگے بڑھ رہے ہیں
اور ہم
دن رات پیچھے جا رہے ہیں"
یه سب کچھ بول کر
وہ خاموش ہو گئے۔
میں نے عرض کیا:
"گویا آپ کا فرمانا ہے

ہم ترقی نہیں کر سکتے"
انہوں نے غور سے میری طرف دیکھا
اور مسکرا کر بولے:
"ہاں....

*وہ یہ قاعدہ ہمارے لئے کیوں تبدیل کرے گا"*

موسیٰؑ کے خاک ساروں میں شامل نہیں ہوتے.
جب تک
ہم بڑے گھروں سے نقل مکانی کر کے
چھوٹے گھروں میں نہیں آتے،
اور
جب تک ہم
قلعوں،ایوانوں اور محلوں سے نکل کر مکانوں،گھروں اور فلیٹوں میں شامل نہیں ہوتے،
ہم اس وقت تک ترقی نہیں کریں گے،
ہم اس وقت تک
بڑی قوم نہیں بنیں گے"
انہوں نے کچھ سوچا
اور مسکرا کر بولے:
جب تک ہم فرعون کے دربار سے نکل کر

Contact Form

Name

Email *

Message *