Friday, 21 April 2017

کسی مرغی کی بات پر دھیان نہ دیجئے

0 comments



کہتے ہیں ایک پہاڑ کی چوٹی پر لگے درخت پر ایک عقاب نے گھونسلہ بنا رکھا تھا جس میں اُس کے دیے ہوئے چار انڈے پڑے تھے کہ زلزلے کے جھٹکوں سے ایک انڈا نیچے جا گرا جہاں ایک مرغی کا ٹھکانہ تھا۔ مرغی نے عقاب کے انڈے کو اپنا انڈا سمجھا اور سینے کے لیے اپنے نیچے رکھ لیا۔ ایک دن اُس انڈے سے ایک پیارا سا ننّھا منا عقاب پیدا ہوا جس نے اپنے آپ کو مرغی کا چوزہ سمجھتے ہوئے پرورش پائی اور مرغی سمجھ کر بڑا ہوا۔ ایک دن باقی مرغیوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے اُس نے آسمان کی بلندیوں پر کچھ عقاب اُڑتے دیکھے۔ اُس کا دل چاہا کہ کاش وہ بھی ایسے اُڑ سکتا……جب اُس نے اپنی اِس خواہش کا اظہار دوسری مرغیوں سے کیا تو اُنھوں نے اُس کا مذاق اُڑایا اور قہقہے لگاتے ہوئے کہا "تم مرغی ہو اور تمہارا کام عقابوں کی طرح اُڑنا نہیں۔" 


کہتے ہیں اِس کے بعد اُس عقاب نے اُڑنے کی حسرت دل میں دبائے ایک لمبی عمر پائی اور مرغیوں کی طرح جیتا رہا اور مرغیوں کی طرح ہی مرا۔ 


منفی سوچوں کو دل میں بسا کر رہنا، اُن سوچوں کا غلام بن کر رہنے کے مترادف ہوتا ہے۔ اگر آپ عقاب تھے اور آپ کے خواب آسمان کی بلندیوں میں اُڑنے کے تھے تو پھر اپنے خوابوں کو عملی جامہ دیجیے۔ کسی مرغی کی بات پر دھیان نہ دیجیے کیونکہ اُنھوں نے تمہیں بھی اپنے ساتھ ہی پستیوں میں ڈالے رکھنا ہے۔ اپنے شخصی احترام کو بلند رکھنا اور اپنی نظروں کو اپنی منزل پر مرکوز رکھتے ہوئے پُر عزم اور بلند حوصلے کے ساتھ آگے بڑھنا ہی کامیابی کا راستہ ہے۔ معاملات آگے نہ بڑھ رہے ہوں تو اپنی روزمرہ کی عادتوں سے ہٹ کر کچھ کرنا بھی کامیابیوں کو آسان بناتا ہے اور پھر یہ بھی تو ذہن میں رکھنا ہوگا……

بحوالہ علامہ محمد اقبال:


 خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی 

نہ ہو خیال جس کو آپ اپنی حالت بدلنے کا

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔

Contact Form

Name

Email *

Message *