Thursday, 4 May 2017

مشال قتل ہوں گے

0 comments
’’کیا؟ کیا؟ کیا کہا۔۔۔؟‘‘سیلانی کے دوست نے چونک کراسے گھورا، اسکے ہاتھ میں تھامے ہوئے چائے کے کپ کا سفر راستے ہی میں رک گیا تھااسکی نظریں سیلانی پر جمی ہوئی تھیں بلکہ سیلانی یہ کہے کہ وہ اسے گھور رہا تھا تو غلط نہ ہوگا
’’میں نے یہ کہا ہے کہ مشعال قتل ہوں گے‘‘
’’نان سینس۔۔۔افسوس ہے تمہاری سوچ پر، تم نے پڑھ لکھ کر گنوایا حیرت ہوئی تمہاری سوچ جان کر۔۔۔۔کچھ لوگوں کاتعلیم کچھ نہیں بگاڑتی اور ہمارے یہاں کچھ لوگ بڑی تعداد میں ہیں، تم بھی ان ہی میں سے ہو‘‘
سیلانی نے کرسی کی پشت سے ٹیک لگائی اور مسکراتے ہوئے اسے دیکھنے لگابلکہ تپانے لگا
’’خطرے کی بات ہے تم جیسے لوگوں کو عوام سے دور رکھنا چاہئے، تم آگ پر پٹرول چھڑکنے والوں میں سے ہو۔۔۔’’سیلانی نے اس کی بات کاٹی اور اسے مزید چڑاتے ہوئے کہا’’اور میں تورہتا ہی عوام کے بیچ میں ہوں‘‘
’’اسے بدقسمتی کے علاوہ اور کیا کہیں۔۔۔تم نے مشعال کی تصویریں دیکھی ہیں ؟ کیا خوبصورت اور بھرپور نوجوان تھا؟ کیا اسے اس طرح مرنا چاہئے تھا؟۔ ۔۔اس بیچارے کا قصور کیا تھا؟ صرف یہ کہ وہ ایک پروگریسو نوجوان تھا‘‘
’’پروگریسو نہیں کمیونسٹ‘‘، سیلانی نے تصحیح کی
’’تو اس پر اسے اس وحشیانہ انداز میں قتل کر دینا چاہئے تھا؟کیا جاہلوں جیسی بات کر رہے ہو یار!‘‘
’’میں نے کب کہا کہ کمرے میں لینن کی تصویر لگانے اور سرخ فوجی ٹوپی پہننے پر اسے قتل کر دیا جائے ‘‘
’’جھوٹ، سفید جھوٹ ابھی، ابھی،ابھی تم نے کہا‘‘
’’میں نے یہ کہا ہے کہ مشعال قتل ہوں گے ‘‘
’’کیوں قتل ہوں گے ؟‘‘اس نے سیلانی کی نقل اتارتے ہوئے چبا چبا کر کہا۔
جواب میں سیلانی نے اسی کی میز پررکھے ہوااخبار اٹھایا پچھلا صفحہ اس کے سامنے پھیلا دیا اور ایک خبر پر انگلی رکھ دی
’’کیا ہے یہ؟‘‘
’’یہ خبر نظر سے گزری ہے،نہیں پڑھی تو پڑھ لو بات سمجھ میں آجائے گی‘‘
وہ باآواز بلند پڑھنے لگا’’سیالکوٹ میں تین عورتوں نے توہین رسالت کے ملزم کو گھر میں گھس کر فائرنگ کرکے مار دیا۔۔۔پسرور میں تین نقاب پوش عورتوں نے توہین رسالت کے ملزم کو گھر میں گھس کر فائرنگ کرکے مار دیا۔۔۔۔یہی تو یہی تو جہالت ہے، مفتی تقی عثمانی کہہ چکے ہیں کہ کسی گستاخ کو قتل کرنے کی اجازت عوام یا کسی فرد کو نہیں یہ کام صرف ریاست کا ہے۔ ‘‘
’’آپ کے ایک ایک لفظ سے متفق ہوں کہ یہ کام ریاست کا ہے لیکن کیا ریاست یہ کام کر رہی ہے؟جب سے توہین رسالت ﷺ کا قانون بنا ہے کوئی ایک مجرم پھانسی چڑھا؟ریاست نے کسی ایک کی گردن لمبی کی ؟ کسی ایک کی زبان کھینچی؟‘‘
’’تو کیا تم یہ کہناچاہتے ہو کہ لوگوں کو آزادی دے دی جائے وہ خود ہی الزام لگائیں، خود ہی عدالت لگائیں اور کوخود ہی فیصلہ کر کے کسی کی بھی جان لے لیں،چاہے وہ بے قصور ہو۔کسی نے اس پر بہتان لگا کر اپنی دشمنی نکالی ہو۔‘‘
’’میں بالکل بھی ایسا نہیں کہہ رہا، میں یہ کہہ رہا ہوں کہ جب عدالتوں سے فیصلے نہیں آئیں گے تو لوگ خود عدالتیں لگائیں گے۔ توہین رسالت کا معاملہ اتنا ہلکا نہیں کہ بندہ صبر کرکے بیٹھ جائےکہ قانون کی پاسداری ہو۔ لوگوں کو پتہ ہو کہ قانون کی پکڑ ہوگی تو وہ اپنے ہاتھ کسی گستاخ کے گندے خون سے کیوں گندے کریں۔۔۔۔؟‘‘اس نے ہاتھ اٹھا کر کچھ کہنا چاہالیکن سیلانی نے اسے موقع نہیں دیااور اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا’’ایک منٹ ایک منٹ۔۔۔۔موٹر وے پر گئے ہو ناں وہاں سیٹ بیلٹ کیوں باندھ لیتے ہو؟‘‘
’’سیدھی سی بات ہے چالان ہوجاتا ہے‘‘
’’اور یہاں کراچی میں سیٹ بیلٹ اس لئے نہیں باندھتے کہ چالان نہیں ہوتا،موٹر وے پولیس ہم ہی میں سے ہے نا؟ اس میں بھرتی کے لئے ہم جبریل علیہ السلام سے فرشتے تو نہیں مانگتے؟ پھر وہاں قانون کی بات کیوں مانتے ہیں اور جی ٹی روڈ پر کیوں نہیں مانتے ؟یہاں بھی اسی اصول کو لاگو کر لو اور مشعالوں کو بچالو ورنہ کسی بھی وجہ سے کوئی بھی ان پر الزام لگا کر قبر کے اندھیروں میں اتار سکتا ہے اور سنو۔۔۔ایک منٹ، ایک منٹ میری بات پوری ہونے دو۔۔۔یہ کوئی راکٹ سائنس نہیں،توہین رسالت ﷺ اور اسی قسم کے الزامات کی تفتیش کے لئے ایک ریپڈ فورس بنائی جا سکتی ہے اور اسی طرح مخصوص عدالتیں بھی قائم کی جا سکتی ہیں۔ جب ہم فوجی عدالتیں قائم کر سکتے ہیں تویہ عدالتیں بھی بن سکتی ہیں،یہ معاملہ ہماری جان و مال سے بڑھ کرہے۔ کسی بھی تھانے میں مقدمہ درج کرکے تفتیش ریپڈ فورس کے حوالے کردی جائے وہ تفتیش تحقیق کرکے ان عدالتوں میں ملزم پیش کر ے۔ فیصلہ وہاں ہو کہ گستاخی کی گئی یا نہیں؟ملزم کو باعزت چھوڑ دیا جائے یا لٹکا دیا جائے۔ یہ عدالتیں تیزی سے کام کریں اپنا اعتبار قائم کرکے لوگوں کے ہاتھ روک دیں ایسا نہ ہوا تو یاد رکھو اسی طرح فیصلے ہوتے رہیں گے یہ عشق عقیدت کے معاملے ہیں، عقل ان کا احاطہ نہیں کر سکتی۔اب آپ فرمائیں‘‘۔
’’یہ پاکستان ہے یورپ اور امریکہ نہیں بھائی صاحب !آپکی تجویز پنج سالہ نہیں پچیس سالہ منصوبہ ہے، سوال یہ ہے کہ تب تک جو لوگ توہین رسالت کے الزام میں مارے جاتے رہیں گے ان کاذمہ دار کون ہوگا؟‘‘

’’یہی ریاست ہوگی، اسی کی ذمہ داری ہے کہ شاتمین کے ناپاک وجود سے زمین کو ہلکا کرے اور جھوٹے الزام لگانے والے کو بھی شریعت کے مطابق سخت ترین سزادے۔ جب یہاں پانامہ لیکس میں نام آنے پرایک شخص کی صداقت امانت جانچنے پرکھنے کے لئے عدالتوں کے پانچ جج سرجوڑ کر بیٹھ سکتے ہیں تو نبی اکرمﷺ کی حرمت وقار کا معاملہ توکچھ اورہی ہے۔ روشن خیال بننے والے دوست لاکھ بھاشن دے لیں مسلمان کم از کم اس پر کمپرومائز نہیں کر سکتے، انگریز سرکار نے غازی علم دین اورہماری سرکار نے ممتاز قادری کو پھانسی دی تھی، اس سزا سے کتنوں نے ’عبرت‘‘لی؟اخبار سامنے ہے پسرور میں گستاخی کا الزام 2004ء میں لگا تھا۔ ملزم بھاگ کر ایران اور ڈنمارک نکل گیا تھا۔ تیرہ برس بعد واپس آیا تو کیا ہوا؟تین عورتوں نے گھر میں گھس کرشناخت کرکے مارااور مار کر بھاگی نہیں، پولیس کا انتظار کرتی رہیں کہ ہاں ہم نے اسے قتل کیا ہے،پھر کہوں گا عدالتیں لگالو،مشعال بچالو۔۔۔‘‘یہ کہتے ہوئے سیلانی نے گھڑی پر نظر ڈال کر میز پر رکھا اپنا بیگ اٹھایا اورجاتے ہوئے لب بھینچ کرکرسی کی پشت سے پشت ملائے اپنے دوست کسی گہری سوچ میں ڈوبادیکھتا رہا دیکھتا رہا اور دیکھتا چلا گیا !

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔

Contact Form

Name

Email *

Message *