Saturday, 29 April 2017

123

0 comments
میں نے ایک دانشور سے پوچھا:
"خواجہ صاحب پورا عالم اسلام زوال کاکیوں شکار ہے؟

هم دنیا کے ہر کونے، ہر خطے میں مار کیوں کھا رہے ہیں‘‘
خواجہ صاحب مسکرائے
اور ذرا سے توقف سے بولے:
میں خاموشی سے ان کی طرف دیکھتا رہا.
انہوں نے فرمایا
فرعون کے بے شمار معانی ہیں..
ان معنوں میں ایک مطلب بڑے گھر والا بھی ہوتا ہے..
فرعون نے خدائی کا دعویٰ کیا تھا..
اس کی اس جسارت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اسے ناپسند فرمایا.
جب اللہ تعالیٰ کسی کو ناپسند فرماتے ہیں
تو وہ اس شخص کی ہر ادا ، ہر عادت کو خرابی بنا دیتے ہیں..
اور آنے والے زمانوں میں
جو بھی شخص اللہ کے اس مشرک کی پیروی کرتا ہے...
جو بھی اس کی عادات اپناتا ہے
اللہ اسے بھی اس زوال ، اس انجام کا شکار بنا دیتا ہے...
میں خاموشی سے ان کی طرف دیکھتا رہا..
انہوں نے فرمایا...
فراعین مصر کو بلند و بالا اور وسیع و عریض عمارتیں بنانے کا شوق تھا..
ان کا خیال تھا محلات، دربار، قلعے اور دروازے طاقت اور اختیار کی علامت ہوتے ہیں..
اگر انہوں نے خود کو خدا ثابت کرنا ہے
تو انہیں پہاڑوں سے بلند عمارتیں بنانی چاہیں...
چنانچہ وہ اس خبط میں مبتلا ہو گئے...
وہ ذرا دیر کیلئے رکے
مسکرا کر میری طرف دیکھا
اور اس کے بعد بولے
یہاں تک کہ انہوں نے اپنے لئے دنیا کی سب سے بڑی قبریں تیار کیں..
آپ اہرام مصر دیکھیں..
یہ کیا ہیں
یہ وسیع و عریض قبریں ہیں.
سائنس آج تک حیران ہے یہ لوگ اتنے بڑے بڑے پتھر کہاں سے لائے،
انہوں نے یہ پتھر ایک دوسرے کے ساتھ کیسے جوڑے
اوران لوگوں نے کرینوں کے بغیر یہ پتھر ایک دوسرے کے ا وپر کیسے رکھے،
یہ مقبرے دراصل ان کی سوچ اور فکر کے آئینہ دار ہیں ،
یہ ثابت کرتے ہیں
فرعون حقیقتاً بڑے گھروں والے لوگ تھے
اور وہ اپنے بڑے بڑے گھروں ، قلعوں اور قبروں سے خود کو خدا ثابت کرنا چاہتے تھے‘‘۔
خواجہ صاحب مکمل طور پر خاموش ہو گئے۔
میں نے عرض کیا:
لیکن فرعون کے گھروں کا ہمارے زوال کے ساتھ کیا تعلق‘‘
وہ مسکرائے
بڑاگہر ا تعلق ہے
فرعون اللہ کا دشمن تھا اوراللہ اپنے دشمن کی عادتوں کو پسند نہیں کرتا
چنانچہ دنیا کے تمام بڑے گھروں والے لوگ جلد یا بدیر فرعون جیسے انجام کا شکار ہوتے ہیں-
وہ ، ان کی خدائی اور ان کے بڑے بڑے گھر زوال کا شکار ہو جاتے ہیں‘‘
میں خاموشی سے سنتا رہا ،
پھر وہ بولے:
"تم دنیا میں ترقی اور پستی پانے والے لوگوں ، معاشروں ، قوموں اور ملکوں کا جائزہ لو

تو تمہیں چھوٹے گھروں،چھوٹے دفتروں اورچھوٹی گاڑیوں والے لوگ، ملک اورمعاشرے ترقی پاتے نظر آئیں گے.
جبکہ
ہر وہ ملک جس کے بادشاہ، حکمران، وزیر، مشیر ، بیوروکریٹس اور تاجر بڑے گھروں، بڑے دفتروں میں رہتے ہیں
وہ ملک وہ معاشرہ زوال پذیر ہوگا‘‘
میں خاموشی سے سنتا رہا،
انہوں نے فرمایا:
"پورا عالم اسلام بڑے گھروں کے خبط میں مبتلا ہے،

اس وقت دنیا کا سب سے بڑا محل برونائی کے سلطان کے پاس ہے ،
عرب میں سینکڑوں ہزاروں محلات ہیں اور ان محلات میں سونے اورچاندی کی دیواریں ہیں، اسلامی دنیا اس وقت قیمتی اور مہنگی گاڑیوں کی سب سے بڑی مارکیٹ ہے‘‘-
وہ خاموش ہوئے،
ذرا دیر سوچا
اور پھر بولے:
"تم پاکستان کو دیکھو،

تم ایوان صدر، وزیراعظم ہاؤس، گورنر ہاؤسز، کور کمانڈر ہاؤسز، آئی جی ، ڈی آئی جی ہاؤسز، ڈی سی اوز ہاؤس اور سرکاری گیسٹ ہاؤسز کو دیکھو،
یہ سب کیا ہیں؟
یہ سب بڑے گھر ہیں،
پاکستان کے ایک ضلع میں18ویں گریڈ کے ایک سرکاری عہدیدار کا گھر 106کنال پر مشتمل ہے،
اسلام آباد کے وزیراعظم ہاؤس کا رقبہ
قائد اعظم یونیورسٹی کے مجموعی رقبے سے چار گنا ہے،
لاہور کا گورنر ہاؤس
پنجاب یونیورسٹی سے بڑا ہے،
اور ایوان صدر کا سالانہ خرچ پاکستان کی تمام یونیورسٹیوں کے مجموعی بجٹ سے زیادہ ہے"
میں خاموشی سے سنتا رہا.
پھر بولے:
"تم لوگ اپنے حکمرانوں کے دفتر دیکھو،

ان کی شان و شوکت دیکھو،
ان کے اخراجات اور عملہ دیکھو،
کیا یہ سب فرعونیت نہیں؟
کیا اس سارے تام جھام کے بعد بھی
اللہ تعالیٰ ہم سے راضی رہے گا"؟؟
جبکہ اس کے برعکس
تم دنیا کی ترقی یافتہ قوموں کا لائف سٹائل دیکھو ،
بل گیٹس دنیا کا امیر ترین شخص ہے،
دنیا میں صرف 18 ممالک ایسے ہیں جو دولت میں بل گیٹس سے امیر ہیں،
باقی 192 ممالک اس سے کہیں غریب ہیں،
لیکن یہ شخص اپنی گاڑی خود ڈرائیو کرتا ہے،
وہ اپنے برتن خود دھوتا ہے ،
وہ سال میں ایک دو مرتبہ ٹائی لگاتا ہے،
اور اس کا دفتر مائیکروسافٹ کے کلرکوں سے بڑا نہیں.
وارن بفٹ دنیا کا دوسرا امیر ترین شخص ہے.
اس کے پاس 50 برس پرانا اورچھوٹا گھر ہے،
اس کے پاس 1980ء کی گاڑی ہے،
اور وہ روز کوکا کولا کے ڈبے سٹورز پر سپلائی کرتا ہے.
برطانیہ کے وزیراعظم کے پاس
دو بیڈروم کا گھر ہے.
جرمنی کی چانسلر کو
سرکاری طور پر ایک بیڈ روم اور ایک چھوٹا سا ڈرائنگ روم ملا ہے.
اسرائیل کا وزیراعظم دنیا کے سب سے چھوٹے گھر میں رہ رہا ہے،
کبھی کبھار اس کی بجلی تک کٹ جاتی ہے.
بل کلنٹن کو لیونسکی کیس کے دوران
کورٹ فیس ادا کرنے کے لئے دوستوں سے ادھار لینا پڑا تھا.
وائیٹ ہاؤس کے صرف دو کمرے صدر کے استعمال میں ہیں،
اوول آفس میں صرف چند کرسیوں کی گنجائش ہے.
جاپان کے وزیراعظم کو
شام چاربجے کے بعد
سرکاری گاڑی کی سہولت حاصل نہیں.
چنانچہ
تم دیکھ لو
چھوٹے گھروں والے یہ لوگ
ہم جیسے بڑے گھروں والے لوگوں پر حکمرانی کررہے ہیں....
یہ ممالک آگے بڑھ رہے ہیں
اور ہم
دن رات پیچھے جا رہے ہیں"
یه سب کچھ بول کر
وہ خاموش ہو گئے۔
میں نے عرض کیا:
"گویا آپ کا فرمانا ہے

ہم ترقی نہیں کر سکتے"
انہوں نے غور سے میری طرف دیکھا
اور مسکرا کر بولے:
"ہاں....

*وہ یہ قاعدہ ہمارے لئے کیوں تبدیل کرے گا"*

موسیٰؑ کے خاک ساروں میں شامل نہیں ہوتے.
جب تک
ہم بڑے گھروں سے نقل مکانی کر کے
چھوٹے گھروں میں نہیں آتے،
اور
جب تک ہم
قلعوں،ایوانوں اور محلوں سے نکل کر مکانوں،گھروں اور فلیٹوں میں شامل نہیں ہوتے،
ہم اس وقت تک ترقی نہیں کریں گے،
ہم اس وقت تک
بڑی قوم نہیں بنیں گے"
انہوں نے کچھ سوچا
اور مسکرا کر بولے:
جب تک ہم فرعون کے دربار سے نکل کر

Saturday, 22 April 2017

حجاب کے بارے میں اہم بلاگ

0 comments
حجاب کے  بارے میں بلاگ 



عام طور پر حجاب کا لفظ '' نقاب '' کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے ۔حجاب کا لفظ عربی زبان کے لفظ حجب سے نکلا ہے جسکے معنی ہیں کسی کو کسی چہرہ تک رسائی حاصل کرنے سے روکنا۔

آجکل حجاب کی اصطلاح صرف سر پر اسکارف لینے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔

عموماََ '' حجاب یا پردہ '' کو مسلمانوں سے منسوب کیا جاتا ہے جبکہ اگر ہم تاریخ کا جائیزہ لیں تو اس کا استعمال قدیم زمانے سے ہی چلا آرہا تھا۔

پردے کا رواج آشوریوں، بابلیوں، میسوپوٹیمیا، سومریوں، اور قدیم یونان میں بھی پایا جاتا تھا۔ گھر سے باہر نکلتے وقت خواتین سر ڈھانپا کرتی تھیں ۔ سر کو کھلا چھوڑنا ایک کبیرہ گناہ سمجھا جاتا تھا اور اس کی خلاف ورزی کرنے والی عورت کو سخت سزا دی جاتی تھی۔

عبرانی زبان میں لفظ حجاب '' ھتصاعیف'' کا مترادف ہے اور اصطلاحاََ ایسی چادر کو کہتے ہیں جو بد ن اور بلخصوص سر کو چھپاتی ہو۔ تلمود یہودی خواتین پر حجاب فرض کرتا ہے جس کے بغیر انہیں باہر نکلنے کی اجازت نہیں اور شوہر کو یہ حق دیتا ہے کہ خلاف ورزی کرنے پر اپنی بیوی کو طلاق دے دے۔ یہودی علماء کے نزدیک عورت کا سر ننگا کرنا ایسا ہی گویا اس نے اپنے جنسی اعضاء نمایاں کیے ہوں۔ یہودی شریعت میں نمازیں اور دعائیں کسی ننگے سر کی عورت کی موجودگی میں قبول نہیں ہوتیں کیوں کہ اسے عریانیت سمجھا جاتا تھا اور ننگے سر کے جرم کے پاداش میں جرمانہ تک کیا جاتا تھا۔ اس کے برعکس فاحشاوّں اور طوائفوں کو یہودی معاشرے میں سر ڈھانپنے کی اجازت نہیں تھی تاکہ آزاد اور غلام عورت میں فرق کیا جاسکے۔

مسیحیت میں بھی اسی قسم کے حجاب کی تائید کی گئی ہے ۔ بائبل میں حجاب کے لیے مترادف لفظ '' peplum '' کا ذکر ہو اہے جسکے معنی ایسی چادر یا رداء کے ہیں جس کو عورت اپنے سر پر اس طرح رکھتی ہے کہ جیسے یونانی عورتیں رکھتیں تھیں اور یہ بدن کے ساتھ ساتھ چہرے کو بھی چھپاتی تھی اور صرف آنکھیں نظر آتیں تھیں۔ آج بھی اگر راہبہ کو دیکھا جائے تو وہ سر تا پاوں ملبوس نظر آتی ہے اور اسی طرح عام مسیحی عورتیں بھی کچھ عرصہ پہلے تک ملبوس نظر آتیں تھیں اور سر کو باقاعدہ ڈھانپتی تھیں۔ آج بھی چرچوں میں حضرت مریم کا جو مجسمہ بنایا جاتا ہے اسمیں چہرہ کے علاوہ پورا جسم ڈھکا ہوتا ہے۔

میسوپوٹیمیا میں بھی عزت دار خواتین پردہ کیا کرتی تھیں اور طوائفوں کو پردہ کرنا منع تھا تاکہ دونوں کے درمیان امتیاز ہوسکے۔

یونان کے ابتدائی دور میں پردے اور نکاح کا رواج تھا اور مردان خانے اور زنان خانے الگ الگ تھے۔

ہندووں میں اگر پردے کا جائیزہ لیا جائے تو وہاں بھی پردے کی اہمیت رہی ہے۔ سیتا کا مشہور واقعہ ہے جب راون نے اسے اغوا کیا تھا تو رام جی کے چھوٹے بھائی لکشمن سیتا کو پہچان نہ سکے تھے کیوں کہ انہوں کے کبھی اپنی بھاوج کی صورت نہیں دیکھی تھی۔ ہندو سماج میں اونچی ذات کی عورتیں پردہ کیا کرتی تھیں۔ اب بھی مارواڑیوں ، کائستوں ، پرانی وضع کے برہمن خاندانوں اور راجھستانیوں میں گھونگٹ نما پردے کا رواج ہے۔

حتی کہ زرتشت کی کتاب '' اوستا'' کے باقیات میں عورتوں پر حجاب واجب اور نامحرم کی طرف دیکھنا حرام ہے۔

اگر دینِ اسلام کا جائیزہ لیا جائے تو اسمیں بھی '' پردے '' کو خصوصی اہمیت حاصل ہے لیکن اسے ادنی و اعلی کی تمیز کے بغیر سب خواتین کے لیے لازمی قرار دیا گیا۔ جیسا کہ قرآن پاک میں سورہ نور آیت ۳۱ میں ارشاد ہے ترجمہ :

اور ایمان والیوں سے کہہ دو کہ اپنی نگاہ نیچی رکھیں اور اپنی عصمت کی حفاظت کریں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں مگر جو جگہ اس میں سے کھلی رہتی ہے، اور اپنے دوپٹے اپنے سینوں پر ڈالے رکھیں، اور اپنی زینت ظاہر نہ کریں مگر اپنے خاوندوں پر یا اپنے باپ یا خاوند کے باپ یا اپنے بیٹوں یا خاوند کے بیٹوں یا اپنے بھائیوں یا بھتیجوں یا بھانجوں پر یا اپنی عورتوں پر یا اپنے غلاموں پر یا ان خدمت گاروں پر جنہیں عورت کی حاجت نہیں یا ان لڑکوں پر جو عورتوں کی پردہ کی چیزوں سے واقف نہیں، اور اپنے پاؤں زمین پر زور سے نہ ماریں کہ ان کا مخفی زیور معلوم ہوجائے، اور اے مسلمانو! تم سب اللہ کے سامنے توبہ کرو تاکہ تم نجات پاؤ۔

سورہ احزاب آیت ۵۹ کا ترجمہ ہے :

اے نبی اپنی بیویوں اور بیٹیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دو کہ اپنے مونہوں پر نقاب ڈالا کریں، یہ اس سے زیادہ قریب ہے کہ پہچانی جائیں پھر نہ ستائی جائیں، اور اللہ بخشنے والا نہایت رحم والا ہے

دیکھا جائے تو '' حجاب یا پردہ '' ہر تہذیب و تمدن میں اشرافیہ خواتین کے لیے عزت و وقار کی علامت رہا ہے ، جسے دینِ اسلام نے بلا تخصیص عام و خاص کے لیے لازم قرار دیا۔ وقت کے ساتھ ساتھ دیگر تہذیب اور مذاہب نے اسے ترک کردیا لیکن مسلم معاشروں میں آج بھی پردہ کی روایت زندہ ہے گو کہ اس میں خاصی کمی واقع ہو گئی ہے لیکن اسے مکمل طور پر ترک نہیں کیا گیا ۔
آج پردے کو صرف مسلمانوں سے منسوب کر دیا گیا ہے اور اس بناء پر انہیں توہین و تضحیک کا نشانہ بنایا جاتا ہے انہیں دقیانوسی اور اجڈ کہہ کر پکارا جاتا ہے تاکہ معاشرے میں بےشرمی اور بےحیائی کو فروغ حاصل ہو، خاندانی نظام اور اسلامی اقدار کا خاتمہ کیا جاسکے۔
ذہن میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب پردہ ہر تہذیب و معاشرت اور مذہب کا حصہ رہا ہے تو اس کا خاتمہ کیوں کر ممکن ہوا؟؟
موجودہ مغربی تہذیب کی بنیاد کا جائیزہ لیا جائے تو اس کی بنیاد صرف اور صرف مادہ پرستی پر رکھی گئی ہے۔ اسمیں صرف اس فرد کو اہمیت حاصل ہے جو کہ کسی نہ کسی طور پر فائدہ مند ہو۔یہی وجہ ہے کہ جب صنعتی ترقی کی بدولت افرادی قوت میں کمی کے باعث عورتوں کو گھر سے باہر نکالنے کا فیصلہ کیا گیا۔ ترغیب دینے کے لیے نعرہ لگایا گیا '' آزادی نسواں اور مردوں کے برابر حقوق '' کا ۔ لیکن آزادی نظر آئی تو صرف عریانیت کی شکل میں، آزادی نظر آئی تو صرف مرد و زن کے آزادانہ اخطلاط میں ، آزادی ملی تو صرف بدکاری کو، آزادی ملی تو صرف مردوں کو اپنے فرائض سے ادائیگی کی۔
آزادی کے نام پر عورت کوتنہا کردیا گیا، اسے ہر ایک کے لیے سہلِ حصول بنا دیا گیا ہے، معاشی آزادی کے نام پر اسے کولہو کا بیل بنا دیا گیا ہے ، ضرورتِ زندگی کی تکمیل کے لیے اسے پست ترین ملازمت تک اختیار کرنی پڑتی ہے اور آسان ترین جاب '' سیکس ورکر '' کی ہے۔
عموماََ سترہ سال کی عمر کے بعد باپ اور اہلِ خانہ اس کے مصارف برداشت کرنے کے پابند نہیں ہوتے اس لیے اپنے لیے کام تلاش کرنا پڑتا ہے۔ شادی کے بعد اسے مساوی حقوق کی وجہ سے شوہر کے شانہ بشانہ گھر کے اخراجات کے لیے ملازمت کرنا پڑتی ہے حتی کہ وہ بوڑھی ہوجائے اور اسکے بچے مالدار ہوں تب بھی اسے اپنے اخراجات خود کرنے پڑتے ہیں۔ عورت کا کام صرف تکمیل شہوات ہے، اس کا نتیجہ یہ ہے کہ وہ نہ اولاد کی تربیت کر سکتی ہے اور نہ ہی اولاد اس کا احترام کرتی ہے ۔ سو اہلِ مغرب کا پورا خاندانی نظام مفلوج و منتشر ہے۔
عورت کی بے پردگی نے مغرب کو صرف اور صرف اخلاقی پستی کی آزادی دی ہے۔
اہلِ مغرب اس بات پر فخر کرتے ہیں کہ انہوں نے دنیا کو '' آزادی '' کا تحفہ دیا ہے جسمیں ہر فرد کو اظہارِ خیال کی اپنی تہذیبی اور ثقافتی شناخت کے ساتھ رہنے کی اور اپنے مذہب پر عمل کرنے کی اجازت ہے اور اور کسی پر کوئی رائے زبردستی نہیں تھوپی نہیں جا سکتی۔
لیکن عالم اسلام پر اس کا دباو ہے کہ وہ اپنے ہاں خواتین کومغربی تہذیب و تمدن کے مطابق زندگی گزارنے کی اجازت دیں ۔کیایہ ان کی مروجہ آزادی کی اصل روح کے منافی اقدام نہیں ہے؟؟
اہلِ مغرب میں شاید آزادی کا حقییقی مفہوم فرد کو اخلاقی اور مذہبی قدروں سے آزاد کرنا ہے نہ کہ آزادی سے ہمکنار کرنا ۔
اس لیےاہلِ مغرب مسلمانوں کو ان کی مذہبی شناخت سے محروم کرنے اور خواتین کی آزادی کے نام پر پردے کے خلاف نہ جانےکیسی کیسی مہم چلاتا رہتا ہے۔
سوچا جائے تو بے پردگی یا عریانیت اس دور کی یادگار ہے جب انسان تہذیب و تمدن اور شعور سے انجان برہنہ گھوماکرتا تھا۔ جب اس نے تہذیبی و تمدنی ترقی کی تو اپنے بدن کو ڈھانپا۔ آج اسی ''ترقی'' کے نام پر انسان برہنگی پر اتر آیا ہے۔
یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ''پردہ '' علامت ہے عورت کے وقار کا ، حیا کا ، نسوانیت کا ، اعلی اخلاق و کردار کا ۔ اسے کسی قسم کی '' قید'' سے منسوب کرنا بالکل غلط ہے۔ دینِ اسلام عورت کی عزت و آبرو کا تحفظ چاہتا ہے اسلیے اسے '' پردہ '' کرنے کا حکم دیتا ہے۔

Contact Form

Name

Email *

Message *