Saturday, 22 April 2017

حجاب سے متعلق ایک اہم اور خوبصورت تحریر

0 comments




عام طور پر حجاب کا لفظ '' نقاب '' کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے ۔حجاب کا لفظ عربی زبان کے لفظ حجب سے نکلا ہے جسکے معنی ہیں کسی کو کسی چہرہ تک رسائی حاصل کرنے سے روکنا۔

آجکل حجاب کی اصطلاح صرف سر پر اسکارف لینے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔

عموماََ '' حجاب یا پردہ '' کو مسلمانوں سے منسوب کیا جاتا ہے جبکہ اگر ہم تاریخ کا جائیزہ لیں تو اس کا استعمال قدیم زمانے سے ہی چلا آرہا تھا۔

پردے کا رواج آشوریوں، بابلیوں، میسوپوٹیمیا، سومریوں، اور قدیم یونان میں بھی پایا جاتا تھا۔ گھر سے باہر نکلتے وقت خواتین سر ڈھانپا کرتی تھیں ۔ سر کو کھلا چھوڑنا ایک کبیرہ گناہ سمجھا جاتا تھا اور اس کی خلاف ورزی کرنے والی عورت کو سخت سزا دی جاتی تھی۔

عبرانی زبان میں لفظ حجاب '' ھتصاعیف'' کا مترادف ہے اور اصطلاحاََ ایسی چادر کو کہتے ہیں جو بد ن اور بلخصوص سر کو چھپاتی ہو۔ تلمود یہودی خواتین پر حجاب فرض کرتا ہے جس کے بغیر انہیں باہر نکلنے کی اجازت نہیں اور شوہر کو یہ حق دیتا ہے کہ خلاف ورزی کرنے پر اپنی بیوی کو طلاق دے دے۔ یہودی علماء کے نزدیک عورت کا سر ننگا کرنا ایسا ہی گویا اس نے اپنے جنسی اعضاء نمایاں کیے ہوں۔ یہودی شریعت میں نمازیں اور دعائیں کسی ننگے سر کی عورت کی موجودگی میں قبول نہیں ہوتیں کیوں کہ اسے عریانیت سمجھا جاتا تھا اور ننگے سر کے جرم کے پاداش میں جرمانہ تک کیا جاتا تھا۔ اس کے برعکس فاحشاوّں اور طوائفوں کو یہودی معاشرے میں سر ڈھانپنے کی اجازت نہیں تھی تاکہ آزاد اور غلام عورت میں فرق کیا جاسکے۔

مسیحیت میں بھی اسی قسم کے حجاب کی تائید کی گئی ہے ۔ بائبل میں حجاب کے لیے مترادف لفظ '' peplum '' کا ذکر ہو اہے جسکے معنی ایسی چادر یا رداء کے ہیں جس کو عورت اپنے سر پر اس طرح رکھتی ہے کہ جیسے یونانی عورتیں رکھتیں تھیں اور یہ بدن کے ساتھ ساتھ چہرے کو بھی چھپاتی تھی اور صرف آنکھیں نظر آتیں تھیں۔ آج بھی اگر راہبہ کو دیکھا جائے تو وہ سر تا پاوں ملبوس نظر آتی ہے اور اسی طرح عام مسیحی عورتیں بھی کچھ عرصہ پہلے تک ملبوس نظر آتیں تھیں اور سر کو باقاعدہ ڈھانپتی تھیں۔ آج بھی چرچوں میں حضرت مریم کا جو مجسمہ بنایا جاتا ہے اسمیں چہرہ کے علاوہ پورا جسم ڈھکا ہوتا ہے۔

میسوپوٹیمیا میں بھی عزت دار خواتین پردہ کیا کرتی تھیں اور طوائفوں کو پردہ کرنا منع تھا تاکہ دونوں کے درمیان امتیاز ہوسکے۔

یونان کے ابتدائی دور میں پردے اور نکاح کا رواج تھا اور مردان خانے اور زنان خانے الگ الگ تھے۔

ہندووں میں اگر پردے کا جائیزہ لیا جائے تو وہاں بھی پردے کی اہمیت رہی ہے۔ سیتا کا مشہور واقعہ ہے جب راون نے اسے اغوا کیا تھا تو رام جی کے چھوٹے بھائی لکشمن سیتا کو پہچان نہ سکے تھے کیوں کہ انہوں کے کبھی اپنی بھاوج کی صورت نہیں دیکھی تھی۔ ہندو سماج میں اونچی ذات کی عورتیں پردہ کیا کرتی تھیں۔ اب بھی مارواڑیوں ، کائستوں ، پرانی وضع کے برہمن خاندانوں اور راجھستانیوں میں گھونگٹ نما پردے کا رواج ہے۔

حتی کہ زرتشت کی کتاب '' اوستا'' کے باقیات میں عورتوں پر حجاب واجب اور نامحرم کی طرف دیکھنا حرام ہے۔

اگر دینِ اسلام کا جائیزہ لیا جائے تو اسمیں بھی '' پردے '' کو خصوصی اہمیت حاصل ہے لیکن اسے ادنی و اعلی کی تمیز کے بغیر سب خواتین کے لیے لازمی قرار دیا گیا۔ جیسا کہ قرآن پاک میں سورہ نور آیت ۳۱ میں ارشاد ہے ترجمہ :

اور ایمان والیوں سے کہہ دو کہ اپنی نگاہ نیچی رکھیں اور اپنی عصمت کی حفاظت کریں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں مگر جو جگہ اس میں سے کھلی رہتی ہے، اور اپنے دوپٹے اپنے سینوں پر ڈالے رکھیں، اور اپنی زینت ظاہر نہ کریں مگر اپنے خاوندوں پر یا اپنے باپ یا خاوند کے باپ یا اپنے بیٹوں یا خاوند کے بیٹوں یا اپنے بھائیوں یا بھتیجوں یا بھانجوں پر یا اپنی عورتوں پر یا اپنے غلاموں پر یا ان خدمت گاروں پر جنہیں عورت کی حاجت نہیں یا ان لڑکوں پر جو عورتوں کی پردہ کی چیزوں سے واقف نہیں، اور اپنے پاؤں زمین پر زور سے نہ ماریں کہ ان کا مخفی زیور معلوم ہوجائے، اور اے مسلمانو! تم سب اللہ کے سامنے توبہ کرو تاکہ تم نجات پاؤ۔

سورہ احزاب آیت ۵۹ کا ترجمہ ہے :

اے نبی اپنی بیویوں اور بیٹیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دو کہ اپنے مونہوں پر نقاب ڈالا کریں، یہ اس سے زیادہ قریب ہے کہ پہچانی جائیں پھر نہ ستائی جائیں، اور اللہ بخشنے والا نہایت رحم والا ہے


دیکھا جائے تو '' حجاب یا پردہ '' ہر تہذیب و تمدن میں اشرافیہ خواتین کے لیے عزت و وقار کی علامت رہا ہے ، جسے دینِ اسلام نے بلا تخصیص عام و خاص کے لیے لازم قرار دیا۔ وقت کے ساتھ ساتھ دیگر تہذیب اور مذاہب نے اسے ترک کردیا لیکن مسلم معاشروں میں آج بھی پردہ کی روایت زندہ ہے گو کہ اس میں خاصی کمی واقع ہو گئی ہے لیکن اسے مکمل طور پر ترک نہیں کیا گیا ۔

آج پردے کو صرف مسلمانوں سے منسوب کر دیا گیا ہے اور اس بناء پر انہیں توہین و تضحیک کا نشانہ بنایا جاتا ہے انہیں دقیانوسی اور اجڈ کہہ کر پکارا جاتا ہے تاکہ معاشرے میں بےشرمی اور بےحیائی کو فروغ حاصل ہو، خاندانی نظام اور اسلامی اقدار کا خاتمہ کیا جاسکے۔

ذہن میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب پردہ ہر تہذیب و معاشرت اور مذہب کا حصہ رہا ہے تو اس کا خاتمہ کیوں کر ممکن ہوا؟؟
موجودہ مغربی تہذیب کی بنیاد کا جائیزہ لیا جائے تو اس کی بنیاد صرف اور صرف مادہ پرستی پر رکھی گئی ہے۔ اسمیں صرف اس فرد کو اہمیت حاصل ہے جو کہ کسی نہ کسی طور پر فائدہ مند ہو۔یہی وجہ ہے کہ جب صنعتی ترقی کی بدولت افرادی قوت میں کمی کے باعث عورتوں کو گھر سے باہر نکالنے کا فیصلہ کیا گیا۔ ترغیب دینے کے لیے نعرہ لگایا گیا '' آزادی نسواں اور مردوں کے برابر حقوق '' کا ۔ لیکن آزادی نظر آئی تو صرف عریانیت کی شکل میں، آزادی نظر آئی تو صرف مرد و زن کے آزادانہ اخطلاط میں ، آزادی ملی تو صرف بدکاری کو، آزادی ملی تو صرف مردوں کو اپنے فرائض سے ادائیگی کی۔
آزادی کے نام پر عورت کوتنہا کردیا گیا، اسے ہر ایک کے لیے سہلِ حصول بنا دیا گیا ہے، معاشی آزادی کے نام پر اسے کولہو کا بیل بنا دیا گیا ہے ، ضرورتِ زندگی کی تکمیل کے لیے اسے پست ترین ملازمت تک اختیار کرنی پڑتی ہے اور آسان ترین جاب '' سیکس ورکر '' کی ہے۔
عموماََ سترہ سال کی عمر کے بعد باپ اور اہلِ خانہ اس کے مصارف برداشت کرنے کے پابند نہیں ہوتے اس لیے اپنے لیے کام تلاش کرنا پڑتا ہے۔ شادی کے بعد اسے مساوی حقوق کی وجہ سے شوہر کے شانہ بشانہ گھر کے اخراجات کے لیے ملازمت کرنا پڑتی ہے حتی کہ وہ بوڑھی ہوجائے اور اسکے بچے مالدار ہوں تب بھی اسے اپنے اخراجات خود کرنے پڑتے ہیں۔ عورت کا کام صرف تکمیل شہوات ہے، اس کا نتیجہ یہ ہے کہ وہ نہ اولاد کی تربیت کر سکتی ہے اور نہ ہی اولاد اس کا احترام کرتی ہے ۔ سو اہلِ مغرب کا پورا خاندانی نظام مفلوج و منتشر ہے۔
عورت کی بے پردگی نے مغرب کو صرف اور صرف اخلاقی پستی کی آزادی دی ہے۔
اہلِ مغرب اس بات پر فخر کرتے ہیں کہ انہوں نے دنیا کو '' آزادی '' کا تحفہ دیا ہے جسمیں ہر فرد کو اظہارِ خیال کی اپنی تہذیبی اور ثقافتی شناخت کے ساتھ رہنے کی اور اپنے مذہب پر عمل کرنے کی اجازت ہے اور اور کسی پر کوئی رائے زبردستی نہیں تھوپی نہیں جا سکتی۔
لیکن عالم اسلام پر اس کا دباو ہے کہ وہ اپنے ہاں خواتین کومغربی تہذیب و تمدن کے مطابق زندگی گزارنے کی اجازت دیں ۔کیایہ ان کی مروجہ آزادی کی اصل روح کے منافی اقدام نہیں ہے؟؟
اہلِ مغرب میں شاید آزادی کا حقییقی مفہوم فرد کو اخلاقی اور مذہبی قدروں سے آزاد کرنا ہے نہ کہ آزادی سے ہمکنار کرنا ۔
اس لیےاہلِ مغرب مسلمانوں کو ان کی مذہبی شناخت سے محروم کرنے اور خواتین کی آزادی کے نام پر پردے کے خلاف نہ جانےکیسی کیسی مہم چلاتا رہتا ہے۔
سوچا جائے تو بے پردگی یا عریانیت اس دور کی یادگار ہے جب انسان تہذیب و تمدن اور شعور سے انجان برہنہ گھوماکرتا تھا۔ جب اس نے تہذیبی و تمدنی ترقی کی تو اپنے بدن کو ڈھانپا۔ آج اسی ''ترقی'' کے نام پر انسان برہنگی پر اتر آیا ہے۔
یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ''پردہ '' علامت ہے عورت کے وقار کا ، حیا کا ، نسوانیت کا ، اعلی اخلاق و کردار کا ۔ اسے کسی قسم کی '' قید'' سے منسوب کرنا بالکل غلط ہے۔ دینِ اسلام عورت کی عزت و آبرو کا تحفظ چاہتا ہے اسلیے اسے '' پردہ '' کرنے کا حکم دیتا ہے۔
اللہ تعالی ہمیں دینِ اسلام کا کی تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق عطا کرے
اللہ تعالی ہمیں دینِ اسلام کا کی تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق عطا کرے

Friday, 21 April 2017

جبران خلیل جبران نے کہا

0 comments



  • بے شک وہ ہاتھ جو کانٹوں کے تاج بناتےہیں۔ ان ہاتھوں سے بہتر ہیں جو کچھ نہیں کرتے۔
  • کیا یہ عجیب بات نہیں کہ جس مخلوق کی کمر میں مہرے نہیں وہ سیپوں کے اندر مہرہ دار مخلوق سے زیادہ امن میں زندگی بسر کرتی ہے۔ 
  • کمال رفعت پر پہنچ جانے کے بعد تم اسی چیز کی رغبت کروگے۔ جو رغبت کے قابل ہوگی۔ اسی چیز کے بھوکے ہوگے، جس کی بھوک ہونی چاہئے اور اسے چیز کے پیاسے ہوگے، جس کی پیاس ہونی چاہئے۔
  • ایمان دل کے صحرا میں ایک سرسبز و شاداب قطعہ ہے۔ جہاں فکر کے قافلے نہیں پہنچ سکتے۔
  • جو شخص تمہاری خوشیوں میں شریک ہوتا ہے لیکن تکالیف میں ساتھ نہیں دیتا۔ وہ جنت کی سات دربانیوں میں سے ایک کی کنجی کھو بیٹھتا ہے۔
  • امیروں کا امیر وہ ہے جو اپنا تخت درویشوں کے دلوں میں پاتا ہے۔
  • تم جہاں سے چاہو زمین کھودلو، خزانہ تمہیں ضرور مل جائے گا۔ مگر شرط یہ ہے کہ زمین کامیابی کے یقین کے ساتھ کھودو۔
(کلیاتِ خلیل جبران سے ماخوذ)

کسی مرغی کی بات پر دھیان نہ دیجئے

0 comments



کہتے ہیں ایک پہاڑ کی چوٹی پر لگے درخت پر ایک عقاب نے گھونسلہ بنا رکھا تھا جس میں اُس کے دیے ہوئے چار انڈے پڑے تھے کہ زلزلے کے جھٹکوں سے ایک انڈا نیچے جا گرا جہاں ایک مرغی کا ٹھکانہ تھا۔ مرغی نے عقاب کے انڈے کو اپنا انڈا سمجھا اور سینے کے لیے اپنے نیچے رکھ لیا۔ ایک دن اُس انڈے سے ایک پیارا سا ننّھا منا عقاب پیدا ہوا جس نے اپنے آپ کو مرغی کا چوزہ سمجھتے ہوئے پرورش پائی اور مرغی سمجھ کر بڑا ہوا۔ ایک دن باقی مرغیوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے اُس نے آسمان کی بلندیوں پر کچھ عقاب اُڑتے دیکھے۔ اُس کا دل چاہا کہ کاش وہ بھی ایسے اُڑ سکتا……جب اُس نے اپنی اِس خواہش کا اظہار دوسری مرغیوں سے کیا تو اُنھوں نے اُس کا مذاق اُڑایا اور قہقہے لگاتے ہوئے کہا "تم مرغی ہو اور تمہارا کام عقابوں کی طرح اُڑنا نہیں۔" 


کہتے ہیں اِس کے بعد اُس عقاب نے اُڑنے کی حسرت دل میں دبائے ایک لمبی عمر پائی اور مرغیوں کی طرح جیتا رہا اور مرغیوں کی طرح ہی مرا۔ 


منفی سوچوں کو دل میں بسا کر رہنا، اُن سوچوں کا غلام بن کر رہنے کے مترادف ہوتا ہے۔ اگر آپ عقاب تھے اور آپ کے خواب آسمان کی بلندیوں میں اُڑنے کے تھے تو پھر اپنے خوابوں کو عملی جامہ دیجیے۔ کسی مرغی کی بات پر دھیان نہ دیجیے کیونکہ اُنھوں نے تمہیں بھی اپنے ساتھ ہی پستیوں میں ڈالے رکھنا ہے۔ اپنے شخصی احترام کو بلند رکھنا اور اپنی نظروں کو اپنی منزل پر مرکوز رکھتے ہوئے پُر عزم اور بلند حوصلے کے ساتھ آگے بڑھنا ہی کامیابی کا راستہ ہے۔ معاملات آگے نہ بڑھ رہے ہوں تو اپنی روزمرہ کی عادتوں سے ہٹ کر کچھ کرنا بھی کامیابیوں کو آسان بناتا ہے اور پھر یہ بھی تو ذہن میں رکھنا ہوگا……

بحوالہ علامہ محمد اقبال:


 خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی 

نہ ہو خیال جس کو آپ اپنی حالت بدلنے کا

اگلی بار

0 comments
تحریر : اویس قرنی
ابھی رات شروع ہونے کو تھی جب اس نے میرا گلا دبا کر اس زور سے زمین پر گرا دیا کہ میری آنکھیں باہر نکل آئیں کچھ لمحوں تک تڑپنے پھڑکنے کے بعد بالآخر اس نے مجھے قتل کر ڈالا اپنے مرنے کا یہ منظر میں اس کی خوفزدہ آنکھوں میں دیکھتا رہا ۔ اس روز آسمان پردیر تک چیلیں ، گدھ اور ابابیلیں پہلی بار اتنی زور سے چیخی تھیں۔
غار سے کافی فاصلے پر آکر گھڑا کھودتے کھودتے جب وہ تھک کر دم بھر کے لیے رکا تو اچانک میری لاش پر نظر پڑتے ہی اسے جیسے ہوش آگیا ہو پھر وہ رات گئے تک بلک بلک کر بچوں کی طرح روتا رہا تب ڈوبتا سورج سلگتی ہوائیں اوردرخت اور دریا خون کے آنسو روئے تھے اور جب روتے روتے شفق کی آنکھیں بے تحاشا سرخ ہوگئیں تو پرندوں نے ڈر کے مارے جنگل کی شاخوں میں خود کو چھپا لیا او ر وہ دن اور آج کا دن ہر روز اسی وقت شفق خون روتی ہے اور سمندر گدلے ہوتے جاتے ہیں اور لمحوں کی مضراب سے تخلیق ہونے والے حیات کے سبھی نغمے سیاہ شال لپیٹے میری قبر پر روز آکر یوں کھڑے رہتے ہیں کہ ان کی حالت پر وقت کو رحم آنے لگتا ہے اور جب کائنات کی آنکھوں کے تارے ٹوٹ کر ان کے دامن میں آ گرتے ہیں تو وہ آہستہ آہستہ اپنی شال سنبھالتے ہوئے رخصت ہو جاتے ہیں۔
کچھ دنوں تک زمین نے مجھے گلے سے لگائے رکھا لیکن پھر میںنے ہمت کی اور دھیرے سے اپنے قبر کی مٹی ہٹا کر دیکھا تو باہر بہت کچھ بدلا ہوا تھا اور میرے جیسے بہت سارے لوگ زمین پر چل پھررہے تھے ۔ میں نے بھی چند لوگوں کو ساتھ ملا کر زمین کے اسی حصے میں اپنا قبیلہ آباد کر لیا۔
تب ایک دن کچھ پتھروں سے چنگاریاں نکلیں جس نے جگہ جگہ سوکھی گھاس کی ٹکڑیوں کو جلا ڈالا اس روشنی کو پکڑنے کی کوشش میں میرا ہاتھ بری طرح جل گیا جس پر میں نے چیخ چیخ کر اپنے قبیلے کو اکھٹا کیا۔ بہت دیر تک ان کی آنکھوں میں بھی حیرت کی چنگاریاں چمکتی رہیں۔
پھر وہ کچھ سوچنے لگے اورآخر کار سب نے ایک ساتھ فتح و مسرت کا نعرہ بلند کیا اور دیوانہ وار ان دہکتے شعلوں کے گرد رقص کرنے لگے ایسا لگ رہا تھا جیسے اس الاﺅ نے زمانے کے جمود کو توڑ کر ایک نیا انکشاف کیا ہو اس پہلے رقص کی گردش نے پہلی دریافت کی ساری حرارت کو اپنے اندر سمو لیا تھا پھر ہم درختوں کو کاٹتے گئے تاکہ یہ شعلے کسی بھی لمحے بجھنے نہ پائیں ہم نے گوشت کے ٹکڑے بھون کر چکھے تو ہماری حیرتوں کے سبھی ذائقے بدل گئے۔
اس آگ کے سائے میں ہم نے خوفناک درندوں سے بچنے کی ترکیبیں سوچیں اور اپنی کپکپاتی راتوں کو تخلیق کے گرم گرم الاؤ کے لحاف میں لپیٹا اور یہی وہ لمحے تھے جب ہم نے پہلی بار ایک دسرے کو کہانی سنانے کی کوشش کی ۔
ہم نے درختوں کی شاخیں توڑیں اور ان سے چوپال بنا لیے ، کئی بار موسم کی شدتوں نے ہمارے چوپال ہواﺅں میں اڑا دئیے لیکن ہر بار ایک دوسرے پرسبقت لے جانے کی خاطر یہی سوچا کہ دیکھیں اس بار کون بازی جیتتا ہے یہاں تک کہ اسی دھن میں کبھی کبھی خود ہی اپنے گھرندوں کو گرا کر نئی بنیادوں کے لیے جواز ڈھونڈنے لگے اور اس دوڑ میں ایک دن ان سب نے مل کر کچھ سوچنے کے بعد مجھ سے ہار مان لی تھی لیکن اس رات سوتے میں کسی نے میرا چوپال میرے اوپر یوں دھڑام سے گرا دیا کہ اس ملبے کے بوجھ میں کسی اور تابوت کی ضرورت ہی نہیں پڑی اب کی بار اگرچہ میں جلد ہی زمین کی گودی سے اُٹھ آیا تھا لیکن میرے اٹھتے ہی سمے وقت کا گھوڑا بڑی تیزی سے کئی موڑ کاٹ کر بہت آگے نکل چکا تھا ۔
میں نے اٹھتے ہی ادھر اُدھر نگاہ دوڑائی دور دور تک لمبی لمبی دیواریں تھیں اور گھر تھے اور گلیاں تھیں اور میرے قریب ایک شخص گزرا جس نے لکڑیوں کا گٹھا اٹھایا ہوا تھا۔
تب میں نے وہ راستہ لیا جہاں سے وہ آرہا تھا اور میں دور تک چلا لیکن نہ گلیاں ختم ہوئیں اور نہ کہیں درخت اور چوپائے دکھائی دئیے اور کچھ لوگ ایک جگہ جمع ہو کر چاندی کے کٹوروں میں دودھ اس طرح لے رہے تھے جیسے سامنے والے کان میں آنے والوں سے کچھ پوچھنے کے بعد لکڑیوں کے گھٹے بنا کر دئیے جارہے تھے یہاں اور بہت سی نئی چیزیں تھیں بہت سے نئے ذائقے تھے ۔ ایسے میں یکبارگی مجھے کچھ یاد آگیا اور میں نے ایک چھوٹی سی لکڑی اٹھا کر اس سے اپنے لیے غلیل بنا لی اورہاتھ میں کچھ پتھر لیے اور گلیوں گلیوں سینہ تان کر چلا لیکن جیسے کسی کو میری اس اکڑ کا پتہ ہی نہیں چلا کیونکہ ہر ایک اپنے کام میں ڈوبا ہوا تھا۔ جلد ہی اس نئی بستی سے مایوس ہونے کے بعد ہم نے اپنے لیے نئے گھر تعمیر کرا لیے اور دریا عبور کرنے کے لیے کشتی بنا لی اورکھیتوں میں ہل چلا کر اپنی پسند کے پھل حاصل کر لیے لیکن ایک دن کسی نے بڑی چالاکی سے دو تین جگہوں پر تفریق کا بیج پھینکا جس کا پھل بے حد کسیلا تھا یہ کڑواہٹ ہمارے اندر ایسے اتر گئی کہ ہماری آوازوں کو چاروں طرف سے بد اندیشیوں کی سڑاند نے گھیر لیا اگرچہ ایک سماوی نغمگی مسلسل ہمیں سمجھاتی رہی لیکن لطافتوں کی یہ بوندیں بے کار چلی گئیں اور ہم نے تقسیم کے تیشے سے ایک دوسرے کے سر پھوڑ کر گندم کے خوشوں اور دھان کی فصلوں کو ایک دوسرے کے خون میں نہلا دیا اور جب ہر قبیلے نے اپنے اپنے مورچے سنبھال لیے تو ایک روز دریا کا پانی شور مچاتا گونجاتا برستا دیواروں سے دیوانوں کی طرح ٹکر یں مارتا ہوا آیا او ر تاحد نظر بدی کے راگ کو اپنے منہ سے نکلنے والے جھاگ سمیت نگلتے ہوئے ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور کھیت اور پیڑ ، انسان اور حیوان ، ہوائیں اور گھٹائیں اور گھر اور گلیاں سب اسی بھیانک بہاﺅ کے ایک ریلے کی نذر ہو گئے اور میں کشتی سے یہ دردناک منظر دیکھتا رہا اور جب دریا کے دل کا غبار آہستہ آہستہ اتر گیا تو مدتوںکھنڈروں کی زمین پر بھٹکتے پھرنے کے بعد چند ہیولوں کو پاکر چند چہرے ملا کر ایک نئی دنیا بسانے کی ٹھان لی۔
یہ نئی دنیا ہم نے بڑی عجلت میںبنائی ہم نے دریاﺅں کا رخ موڑا اور مچھلیوں کے پھانسنے کے لیے نت نئے داﺅ آزمانے لگے اور وقت کی طوفانی لہروں کا لحاظ کیے بغیر دور دور تک اپنے پھندے پھیلا دئیے لیکن بہت جلد وقت کے دریا سے ایک ایسی لہر اٹھی جو ہمارے گلے کا کانٹا بن کر اٹک گئی۔مگر ہم نے اس وقت ایسی بے نیازی دکھائی جیسے کچھ ہوا ہی نہیں ۔
تب دھیرے دھیرے ہمارے کان اور ہماری آنکھیں ، ناک اور گردنیں ، ہاتھوں اور پیروں ، ناخنوں اور بالوں کی کایا یوں پلٹی کہ ہمارے چہروں پر اچانک نوکیلی جھاڑیاں اُگ آئیں یہ دیکھ کر ہمیں ایک دوسرے سے بے تحاشا خوف محسوس ہو ا یا شاید ہم ایک دوسرے کے آئینے میں پہلی بار خود کو اصل صورت میں دیکھ رہے تھے ایسا لگا جیسے وجود کی ہر شاخ پر کانٹوں کا ایک جنگل اُگ آیا ہو اور دل و دماغ کی کھدروں میں جگہ جگہ ببول کے درختوں کی باڑ لگی ہو لیکن میں برابر دیکھتا رہا کہ جس طرح زمین خود سانس لیتی ہے اس طرح وہ میری روح کے تنفس سے بھی کبھی لاتعلق نہیں رہی اور جب روح کا تنفس بحال ہوتے ہوتے ایک یُگ بیت گیا تو کافی سوچ بچار کے بعد ہم نے ان بے حد چڑھے ہوئے منہ زور دریاﺅں پر بند باندھنے کا ارادہ کر لیا کہ یہ فیصلہ اب ناگزیر ہو چکا تھا یہ بند باندھتے ہی ہم نے اپنے وجود میں ایک نئی توانائی ، ایک نئی قوت اور بجلی دوڑتی محسوس کی اس برقی رو سے تہذیب کے نئے الاﺅ روشن ہوگئے۔یہ بجلی کسی کاغذی پیراہن کی طرح دیر تک ہمارے جسموں کے اوپری سطح پرسراسراتی ہوئی رینگتی رہی لیکن جب اس سطح کے نیچے بھونچال آئے تو اوپر کی ساری چکا چوند بھک سے اڑگئی۔ ان نئی بستیوں کے بندوبست میں ہم خود سے انصاف نہ کرسکے اور بہت جلد ہر شخص کے لیے اپنا گھر اور اپنا گھرانہ ایک گالی بن کر رہ گیا اور وہ پرائے گھروں اور پرانی رفاقتوں پر گدھ بن کر اس طرح منڈلانے لگا کہ تخلیق کی ساری طہارت ناپاک دھبوں میں بدل کر رہ گئی اور ایک دن سبھی رستوں کے روکھے سوکھے پتے یوں ٹوٹ کر بکھر گئے کہ وہ بالکل برہنہ پیڑوں کی مانند نکل آئے۔ پھر یوں لگا جیسے بجلی کی سبھی تاریں ننگی ہو کر ان برہنہ پیڑوں کے تنوں سے سنپولوں کی طرح چمٹ کر انہیں بڑی بے دردی سے ڈس رہی ہوں اس وقت ہواﺅں نے یہ منظر دیکھ کر سرسے پیروں تک اپنے چہروں کو پاتال کے برقع میں ڈھانپ لیا تھا لیکن وہ زہر اب درختوں کے جسموں سے ہرکر بڑی تیزی سے دراڑیں پیدا کرتا ہوا زمین کی تہہ تک اتر رہا تھا اور ہوائیں جنہوں نے خود کو کہیں بہت تاریکی میں چھپا لیا تھا اس زہر ناکی کی تاب نہ لاتے ہوئے پوری قوت سے زمین کے اس ٹکڑے سمیت اوپر اٹھ آئیں اور پھر اوپر سے ایسی ہولناک بارش ہونے لگی جیسے کوئی کسی کو سنگسار کرنے نکلا ہو۔ پھر زمین ہلنے لگی اور عمارتیں دھڑام سے منہ کے بل گرنے لگیں۔
اس واقعے کے کچھ ہی روز بعد مجھے ایک پہاڑ کی تہہ میں ایک بوسیدہ سی کتاب ملی میں اسے الٹ پلٹ کر دیکھتا گیا تب مجھے معلوم ہوا کہ ایسی اور بھی بہت سی کتابیں میرے آس پاس موجود ہیں مگر انہیں ڈھونڈنا ہوگا لیکن جس روز میں کتابوں کا ایک بڑا ذخیرہ ڈھونڈ نکالنے میں کامیاب ہوا عین اسی وقت ایک شخص نے ہمارے قبیلے پر لشکر کشی کی اور تلوار کی نوک سے اپنا ”طورہ“ لکھ ڈالا اور سوائے اپنے طورے کے باقی سبھی کتابوں اوررسالوں کو ناچتے ہوئے شعلوں کی نذر کردیا۔
اور مجھے وہ دن یا د آیا جب بہت سالوں پہلے ایسے ہی ایک شخص نے ہمارے قبیلے کے ایک بچے کی تلاش میں ہزاروں معصوم بچوں کی کھوپڑیوں کاہار اپنے گلے میں ڈال کر اپنی خدائی کا آتشین جام لنڈھایا تھا اس وقت کسی کو معلوم نہیں تھاکہ نیل کی موجیں دونوں مرتبہ ہم پر بعینہ اسی طرح مہربان ہوں گی جیسے ایسی ہی ایک قہر ناک آگ میں ڈالے جانے پر بھی شعلوں نے ہمارا دامن جلانے سے انکار کیاتھا ۔شاید اسے گزرے ہوئے ماضی کے رقص اور بیتے دنوں کا پاس تھا جبھی پھولوں کی سیج میں بدل گئی تھی۔
تب اس شام سمندر کی ڈوبتی اچھلتی لہروں نے اپنے ماضی کے صندوق سے کتابِ عبرت کے کئی اوراق ہمیں پڑھ کر سنا ڈالے۔ پر یہ معلوم نہ تھا کہ جس دریا کا پانی آج ہم پرمہربان ہوا ہے کل ان موجوں کے تھپیڑے کسی درد کے دجلے اور فراق کے فرات کا نوحہ بھی بن سکتے ہیں۔ اب کی بار ارادہ کیا کہ اس زمین و زماں کی سیر کے لیے نکلیں گے لیکن ہمارے فیصلے سے پہلے ہی ہواﺅں میں اڑان بھرنے کے لیے طرح طرح کے اڑن کھٹولے آ موجود تھے۔۔۔آنے والا دن شدت سے یہ احساس لے کر آیا کہ زہر میں بجھے ہوئے تیروں اور تلواروں کا مقابلہ کیسے ہو سکتا ہے ؟؟ ابھی انہیں سوچوں میں مگن تھے کہ پہاڑوں کے دامن میں ایک ایسا مہیب دھماکہ ہوا جس سے دھرتی کاسینہ لرز اٹھا۔۔۔کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ کوئی ایسی قوت بھی ہوسکتی ہے جو پہاڑوں کے دلوں کو بھی ہلا کررکھ دے گی اور مخالف قوتوں کی توڑ کے لیے اڑن کھٹولوں سے وہی آگ برسائے گی جسے پاکر ایک دن ہم نے جشن منایا تھا اگلے روز کسی نے عقب سے حملہ کرکے لوہے کی جیک کو میرے سر پر اس زور سے مارا کہ میرے جبڑے توڑ کر رکھ دئیے اورمیرے دانت باہر نکل آئے پھر اس نے ایک آہنی ٹکوے کی مدد سے میرے وجود کا بٹوارہ کر دیا ور میری زبان کو بھی جگہ جگہ سے کاٹ کر کئی ٹکڑوں میں تقسیم کر ڈالا اور پھر اپنے آہنی بوٹوں سے ٹھوکر لگا کر ایک ”چوکور “ مین ہو ل کی ”چھاونی“ میں پھینک ڈالا کئی گولیاں میرے سینے اور میرے دل اور میرے جگر میں سے ہوتے ہوئے اس گٹھر کے تعفن میں غائب ہوگئیں اور گٹھر کے دوبارہ کھلنے کے ڈر سے یہاں پر سرحدوں کے خوف نے اپنا پہرا بٹھا دیا۔جس ایذا رسانی سے میں یہاں گزرا شاید اتنی اذیت تو مجھے اس وقت بھی نہیں پہنچی تھی جب مجھے سولی پر چڑھا دیا گیا تھا۔
اس روز دوپہر کو ایک شخص نے مجھے کچھ اس طرح نشانہ بنایا کہ خود اس کاسر بھی اس کے دھڑ سے یکلخت جدا ہوگیا گرتے گرتے اس کاسر میرے دھڑ کے اوپر گرا تھا اور میرا سر اس کے دھڑ سے لگ کر حرارت لینے لگا تھا اور ہمارے خون سے معبدوں کی سرزمین ”لال“ ہو چکی تھی دوسرے دن ہم ایک دوسرے کا چہرہ پہن کرنکلے تو احساس تک نہیں ہوا کہ ہم ایک دوسرے کے جسم میں پھر رہے ہیں اور اس روز ہم نے سارا وقت یہی سوچ سوچ کر گزارا کہ ایک دن وہ جو ہم نے بند باندھے تھے پتہ نہیں کہاں کہاں ٹوٹ گئے تھے۔
ابھی سوچ کی پہلی سانس بھی لینے نہ پائے تھے کہ کئی کڑکڑاتے ہوئے رائفلوں نے ہماری لاشوں کو بھرے بازار میں روندنے کے لیے تنہا چھوڑ دیا۔ پھر میں نے دیکھا کہ میرے اردگرد لاشوں کے کھمبے سے گرائے جارہے ہیں جیسے میرے قریب دھویں کا کوئی آرا چل رہا ہو اور سماج کی ہرکہانی مذہب کا ہر قاعدہ ، سائنس کے سارے مفروضے اور فلسفے کی سبھی موشگافیاں لاشوں کے ڈھیر میں جھلس رہی ہوں لوگ زمین چھوڑ کر بھاگ رہے تھے ان کے پیچھے آگ لگی تھی وہ آگ جس میں ایک دن انہوں نے پناہ ڈھونڈی تھی اب ان کا پیچھا کررہی تھی پھر اچانک ایک ہولناک گڑگڑاہٹ کے ساتھ ایسی جان لیو بدبو کائنات کے اس کونے سے اس کونے تک یوں پھیل گئی کہ زمین پر گرتی ہوئی لاشوں کی جلدیں تک اترگئین ہم نے اس طرح ننگے جسموں کے ساتھ بھاگنے کی کوشش کی کیونکہ نیچے سے کوئی زمین کی چادر بڑی بے دردی سے کھینچ رہا تھا لیکن اب بدبو کی شدت میں اتنی تیزی آچکی تھی کہ اس نے ہماری ہڈیوں تک کو پگھلانا شروع کر دیا دھویں کا سمندر ٹھاٹیں مارتا ہوا یوں چڑھ رہا تھا جیسے کسی نے دنیا کے چہرے پر ہزاروں ناگا ساکیوں کو دے مارا ہو۔
ہماری ہڈیاں ریزہ ریزہ ہو کر بکھررہی تھین ۔۔۔آخری منظر جو دیکھنے میں آیا تو یوں لگا جیسے کائنات کے وجود میں اندر ہی اندر کیڑے پڑ گئے ہوں اور وہ اندر سے مکمل طور پر اکھڑ گیا ہو اور اب کسی بڑے گُرز کی ضرب سے اس کا وجود پارہ پارہ ہو کر ختم ہو چکا ہو۔ ”تو بالآخر“۔۔۔۔۔۔۔۔ اور یوں بھی اس گھناﺅنے کھیل کا خاتمہ ایک دن تو ہونا ہی تھا لیکن ایک چنگاری اب بھی کہیں دور خلاﺅں میں سوچ بن کر بھٹک رہی ہے کہ اگلی بار اٹھنا ہوا تو جانے کس شکل میں کن حشر سامانیوں کے ساتھ نکلوں گا؟؟؟؟؟

اکیسویں صدی میں افکار اقبال کی تفہیم

0 comments
تحریر: خالد سہیل ملک
alama Iqbal
”مصنف نے انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد میں مندرجہ بالاموضوع پر منعقدہ سہ روزہ کانفرنس میں ایک مقالہ پڑھا ۔اس مقالے کی تلخیص قارئن کی نذرکی جاتی ہے “

نابغہ شخصیات وہی قرارپاتی ہیں کہ جو وقت کے تینوں زمانوںمیں سانس لیتی ہوںکہ جنہیں ماضی کی تصویراپنی تمام تر توجیہات اور تنائج کی صورت میں دکھائی دیں کہ حال تک پہنچنے کا منطقی ربط بھی معلوم ہو۔حال کے تقاضے بھی ان کی نظر میں سطحی سے زیادہ گہری نظر میں موجود ہوںکہ مستقبل کے رستوں کاتعین کیاجاسکے ۔علامہ اقبال بھی ایسے ہی نابغہ ہیں کہ انسانی تاریخ کے ہر باب سے ان کی نظر گزری ہے کہ جنہوں نے زمانہ حال کے حالات کو نہ صرف سمجھا بلکہ آنے والے وقتوں کو بھی اپنی نگاہ دروں بیں سے دیکھا ،پرکھا اور سمجھا ہے ۔مسلہ یہ رہا ہے کہ علامہ کو ایک خواب دیکھنے پر ہی مکمل کرلیا گیا۔ابھی ان میں بہت سے امکان باقی تھے مگر ان کی فکر کو اس سے آگے دیکھنے کی زحمت ہی گوارا نہیں کی گئی۔ان کے فلسفہ خودی سے بات آگے بڑھائی ہی نہیں گئی ۔خودی اور بے خودی کے ان کے فلسفے میں بے شک بہت کچھ ہے لیکن علامہ تو اس سے آگے بھی بہت کچھ کہہ گئے ہیں کہ جسے درخوراعتنا ہی نہیں سمجھا گیا۔اقبال کی شاعری کا تو جواب شاید ہی اردو شاعری کی تاریخ میں کوئی دے سکے لیکن ان کے خطبات کی مثال بھی تو ہمارے ہاں کسی کے پاس نہیں ہے۔جس میں انہوں اس زمانے میں ہی عالم اسلام کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ دیا تھا۔امام ابوحامد الغزالی کی جانب سے اجتہاد پر لگائی جانے والی پابندی کو اقبال نے اٹھانے کی ضرورت کو محسوس کیا تھاکہ اس دور میں جو پابندی لگائی گئی تھی وہ پابندی بجاتھی کہ بہت سے مشتشرکین کی جانب سے اجتہاد کے نام پر بہت سے ایسی باتیں سامنے آگئی تھیں کہ جو اسلام کی روح کے منافی تھیں ۔قرآن مجید جو کہ ایک بہت ہی تہذیبی زبان میں نازل ہوا ہے ۔جس کی تفہیم کے لیے اس زبان پر ویسا ہی عبور لازمی ہے،مشتشرکین عربی زبان کی اس بلندی پر تفہیم میں چوک جاتے تھے کہ جہاں مسائل جنم لیتے ہیں ۔مگر علامہ نے یہ سوال اٹھایا کہ ایک عنصر کہ جو اسلام کے عین مطابق ہے ۔کہ جس کی ضرورت بھی محسوس کی جارہی ہوتو اسے کیونکرمعطل رکھا جاسکتا ہے ۔ہاں اجتہاد کوعمل میں لانے کے لیے ضابطہ اخلاق اور مجتہد کے لیے شرائط وہی ہوں کہ جو ہونی چاہئیںمگر اجتہاد کا دروازہ کھلنا ضروری ہے ۔ اقبال کے نذدیک آج کے انسان کو اجتہاد کی ماضی کے سب ادوار سے زیادہ ضرورت ہے کہ زندگی میں ارتقاءکا عمل پہلے کی نسبت بہت تیز ہے ۔تبدیلیاں سرعت کے ساتھ ظہور پذیر ہیں ۔سائنس اور علوم وفنوں کے نئی حقیقتوں سے انسان کو روشناس کروادیا ہ گیاہے ۔ ایسی حالت میں قرآن کہ جو آخرت تک سب سے بڑا سچ اور سب سے ویلڈ تحریر ہے ،قرآن کو اس کی سپرٹ کے ساتھ سمجھ کر ہی تشکیک سے مسلمان کو نکالا جاسکتا ہے۔قرآن کونئے انداز اور زمانے کی نئی حسیات کے ساتھ سمجھنے کے لیے اجتہاد بہت ضروری ہے۔اقبال نے اس سوچ کو چیلنج کیا کہ مشاہد ہ ہی سچ ہے اور آئیڈیا سچ نہیں ،آئیڈیا اسی وقت حقیقت یا سچ ثابت ہوسکتا ہے جب وہ آئیڈیا بجائے خود مشاہدے میں تبدیل نہ ہوجائے ۔ اقبال نے تو یہاں تک کہہ دیا فورس آف آئیڈیا ہی سب کچھ ہے کہ آئیڈیا ہی سب سے بڑی قوت ہے کہ وجود سے بھی زیادہ مظبوط اور طاقت ور ہے ،کیونکہ خدا بھی مشاہد نہیں ہے بلکہ آئیڈیا ہے گویا اقبال نے جو کہا کہ گاڈ از آئیڈیا تو اس کے تناظر میں یہی فلسفہ تھا کہ جسے بہ الفاظ دیگر ایمان بھی کہاجاسکتا ہے ۔اقبال کے نذدیک آئیڈیا ایک فکری ودیعت ہے کہ یقین کی حد کو چھولیتا ہے ۔اللہ کی واحدانیت بھی تو مشاہدہ نہیں بلکہ آئیڈیا ہی کی ایک یونیٹی ہے ۔علامہ کے مطابق احساس اور فکر کا نام ایمان ہے ۔ایمان فکر کو دسپلن کرتا ہے ۔شریعت اور اسوہ حسنہ ﷺایمان کے ساتھ مل ایک چوکٹھا مرتب کرتے ہیں۔یہ فریم جو اس کائنات پر محیط ہے اور اس کائنات کامقصد بھی ۔ اس چوکٹھے میں توتصور ابھرتا ہے اس کا پروٹوٹائپ ماڈل اقبال کے نذدیک رسالت ہی ہے ۔ایمان صرف لفظوں کا محتاج نہیں بلکہ برکات وحی کے لطف لینے کا نام ہے ۔یہ سلسلہ تو علامہ کے نذدیک زبانی ،قلبی اور روحانی کیفیت کے ملاپ سے جنم لیتا ہے ،اور یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اسے اس حد تک راسخ نہ کرلیا جائے کہ جس حد پر کوانٹم تھیوری کے قانون کو مانا اور سمجھا جاتا ہے کہ جس تھیوری کی بنیاد پر دنیا کا نظام چل رہا ہے اور چلایا جارہا ہے ۔اقبال دنیا میں پھیلے فساد کی جڑ اس بے کلی یا بے چینی کو قراردیتے ہیں کہ جو انسان کو کسی اور سلسلے کے لیے ودیعت ہے
بے کلی کوموجب راحت بنا

بے قراری باعث عزت بنا

اور ایسا اسی وقت ممکن ہے کہ جب ایمان کو تصدیقاً بالقلب کے درجے تک پہنچایا جاتا ہے جوکیفیت پیغمبر ﷺ کے صحابہ کرام کومیسر تھی۔اب ایسی بنیادوں باتوں کو سمجھنے کے لیے اجتہاد کتنا اہم اور موثر کردار ادا کرسکتا ہے یہی وہ سوچ تھی جو علامہ نے اپنے خطبات کے ذریعے اسلام کے ماننے والے اعلیٰ اذہان تک منتقل کرنا چاہی ۔افسوس کہ اقبال کی شاعری کی دلفریبی اتنی شاندار ہے کہ ان کی شاعری نے اپنے سرور میں ان کے خطبات کو بڑے عرصے تک دبائے رکھا ۔اکیسویں صدی میں ان کے خطبات کی تفہیم بالخصوص اسلامی معاشرے اور بالعموم ساری دنیا کے لیے کسی انٹی بائیوٹک سے کم نہیں ہے ۔مسلمان خود اپنے آئین کو توقلبی طور سمجھ نہیں سکا کہ اس کا خدا کے ساتھ ایگریمنٹ کیا ہے ۔ اسے اگر خلیفہ کا درجہ دیا گیا ہے تو اس خلافت کے تقاضے کیا ہیں ۔اقبال تو اسلام کو پنی شیا ۔یا اکسیر سمجھتے ہیں تمام تر انسانیت کے لیے ۔ماضی قریب میں جب انسان کو فزیکل بینگ تصور کیا جاتاتھا تو انسان کی سیلف یا سول کی تفہیم بھی مشکل تھی ۔نفسیات کے علم نے انسان کو سائیکوفزیکل بینگ قراردیا تو انسان کی سیلف اور کی تلاش کا سفر شروع ہوا۔اقبال بھی انسان کو سائیکوفزیکل بینگ سمجھتے ہیں جو سیلف اور سول کا ملاپ ہے کہ جس کی سیلف اور سول کا ریزن ڈیٹر وہی ایمان ہے کہ جو احساس اور فکر سے جنم لیتا ہے۔انسان نے مادی دنیا کو خود پر اتنا طاری کررکھاہے کہ اس کی سیلف اور سول کی بالیدگی کاسامان کم از کم مادیت میں موجود ہی نہیں جب تک انسان اپنے مقصد حیات کو نہیں پالیتا کہ جس مقصد کے لیے انسان کو اس دنیا میں بھیجا گیا ہے ۔اس مقصد کو سمجھنے کے لیے دین ہی واحد راستہ ہے اور ادیان میں سب سے جدید دین اسلام ہی ہے ۔ کہ جس میں کتاب اور رول ماڈل موجود ہے ۔اکیسویں صدی شاید ماضی کی صدیوں سے زیادہ حساس صدی ہے انسان تباہی کے دھانے پر کھڑا ہے وہ کہ جہاں ایک طرف تو دنیا گلوبل ویلج بن چکی ہے تو وہیں مذہب و عقیدے کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے ۔ مادیت کی دوڑ میں روحانیت کو کچلاجاچکا ہے ۔عقائید میں مکالمہ ختم ہوچکا ہے ۔فساد کے بہانے تلاشے جارہے ہیں ۔ایسے میں علامہ کے افکار کی اہمیت بڑھ جاتی ہے کہ جسے پھیلا کر ایک امن و آشتی کی فضا قائم کی جاسکتی ہے ۔

Contact Form

Name

Email *

Message *